گجرات :25؍اپریل (پریس ریلیز) گجرات کی سرزمین، جو تہذیب و روایت کی خوشبو سے مہکتی رہی ہے، آج ایک نئے بابِ تاریخ کی امین بنی۔ علم کے افق پر ایک ایسا چراغ روشن ہوا جس کی لو میں برسوں کی محنت، قربانی اور خوابوں کی تعبیر جگمگا رہی تھی۔
شہر احمد آباد کی گجرات یونیورسٹی کے وسیع و عریض احاطے میں گجرات آرٹس اینڈ سائنس کالج کے صدرشعبۂ اردو، (ایسوسی ایٹ پروفیسر) ڈاکٹر ناظمہ انصاری کی زیر نگرانی وہ یادگار لمحہ میسر آیا جس کا انتظار سے تھا۔ڈاکٹر ناظمہ انصاری صاحبہ کی سر پرستی میں دو دانشور اور محنتی ریسرچ اسکالرز ، یاسین قریشی اور احمد حسن نے اپنی علمی مسافت کو کامیابی سے طے کرتے ہوئے پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کیا اور یوں گجرات میں اردو کی پہلی پی ایچ ڈی کا سنگِ میل قائم ہوا۔
محمد یٰسین قریشی نے اپنے تحقیقی مقالے میں نیر مسعود کی شخصیت اور فن کا عمیق مطالعہ پیش کیا، جبکہ احمد حسن نے خلیل الرحمن اعظمی کے فکری اور تنقیدی پہلوؤں کو اپنی تحقیق کا محور بنایا۔ دونوں اسکالرز نے اپنے وائیوا کے دوران نہایت اعتماد اور وقار کے ساتھ اپنے مقالوں کا خلاصہ پیش کیا اور ماہرین و اساتذہ کے سوالات کے مدلل اور شائستہ جوابات دے کر سب کو متاثر کیا۔
اس دوران ایک ادبی نشست بھی قائم کی گئی جس میں بیرونی ممتحن کی حیثیت سے ڈاکٹر کرتی مالنی، جو اپنے میدانِ تحقیق میں ایک معتبر اور صاحبِ بصیرت علمی شخصیت ہیں، امبیڈکر یونیورسٹی ،اورنگ آباد سے تشریف لائیں، جبکہ ڈاکٹر شکیل احمد، جو سیوا سدن مہا ودھیالیہ برہان پور سے وابستہ ایک ممتاز استاد اور سنجیدہ محقق ہیں، برہان پور سے اس نشست میں شریک ہوئے۔ دونوں معزز مہمانوں نے نہ صرف طلبہ کی علمی کاوشوں کو سراہا بلکہ احمد آباد کی مہمان نوازی، علمی فضا اور تہذیبی رنگ کو بھی دل سے خراجِ تحسین پیش کیا۔مزید برآں، دونوں ایکسٹرنل ایکسپرٹس نے دونوں مقالوں اور وائیوا میں پیش کیے گئے علمی مکالمے کو غیر معمولی طور پر سراہتے ہوئے نہایت واضح اور پُراثر انداز میں اس بات کا اعلان کیا کہ انہوں نے تھیسس کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد یونیورسٹی کو تحریری طور پر یہ سند دے دی ہے کہ ان مقالات پر پی ایچ ڈی کی ڈگری نہ صرف دی جانی چاہیے بلکہ یہ تحقیقات اپنی علمی گہرائی، فکری پختگی اور عرق ریزی کے سبب اشاعت کے بھی پوری طرح مستحق ہیں، لہٰذا انہیں شائع کیا جانا چاہیے۔
ان کے اس اعلان اور حوصلہ افزا کلمات پر محفل میں موجود تمام حاضرین نے پُرجوش تالیوں کے ساتھ اس کی تائید کی اور اپنی دلی مسرت و افتخار کا بھرپور اظہار کیا، یوں یہ لمحہ علم و ادب کی فضا میں ایک یادگار گونج بن کر ثبت ہو گیا۔
تقریب میں پروفیسر نوتن کوٹک جو بھاشا ساہتیہ بھون کی ڈائریکٹر اور شعبۂ اردو کی صدر بھی ہیں، نے اپنی دعاؤں اور حوصلہ افزائی سے اس محفل کو مزید وقار بخشا۔ دیگر اساتذہ، مختلف مضامین کے پروفیسران اور ریسرچ اسکالرز بھی اس تاریخی موقع کے گواہ بنے۔اس موقع پر ولی گجراتی یا ولی دکنی کے حوالے سے سعد اللہ گلشن کا ذکر بھی ہوا، اور یوں احمد آباد، برہان پور اور اورنگ آباد کے علمی رشتوں کو ایک خوبصورت لڑی میں پرو دیا گیا—جیسے سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہوں اور منزل ہو اردو کی خدمت۔یہ پی۔ایچ ۔ڈی وائیوا 6/ اپریل 2026 بروز پیر صبح 11 بجے منعقد ہوا۔
پروفیسر ناظمہ انصاری نے اپنی گفتگو میں اس طویل جدوجہد کا ذکر کیا جو اس خواب کو حقیقت بنانے میں درپیش رہیں۔ 2018 میں داخلہ لینے والے طلبہ نے نہ صرف تعلیمی مشکلات بلکہ کورونا جیسے سخت دور کا بھی سامنا کیا۔ کئی ساتھی راستے میں بچھڑ گئے، مگر یہ چند چراغ آندھیوں میں بھی روشن رہے اور آخرکار اپنی منزل پا لی۔
یہ کامیابی صرف طلبہ کی نہیں بلکہ ایک استاد کے خواب کی تعبیر بھی ہے—ایک ایسا خواب جس کے لیے قربانیاں دی گئیں، اپنوں سے دوری برداشت کی گئی، اور مسلسل محنت کی گئی۔
اسی جذبے کو ڈاکٹر علامہ اقبال نے اشعار میں یوں کہا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
حالیہ دنوں گجرات میں اردو تحقیق کا یہ پہلا چراغ روشن ہوا ہے، کل یہی روشنی ایک قافلہ بنے گی—اور آنے والی نسلیں اسی نور میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کریں گی۔