لکھنو27جنوری: یو نیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ’اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے ضوابط 2026‘ کے خلاف جاری احتجاج مزید تیز ہو گیا ہے۔ طلبہ مظاہروں اور عدالتی چیلنج کے بعد اس تنازعہ نے مذہبی، انتظامی اور سیاسی سطح پر نئی شکل اختیار کر لی ہے، جس سے حکومت کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ پریاگ راج میں سادھو سنتوں کی مداخلت نے اس معاملے کو محض تعلیمی پالیسی کے دائرے سے نکال کر سماجی تشویش میں بدل دیا ہے۔ سوامی اویمکتیشورانند نے یو جی سی کے ضوابط کو ذاتوں کے درمیان ٹکراؤ کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ذات پیدائشی طور پر نہ ظالم ہوتی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر انصاف پسند۔ ان کے مطابق نئے ضوابط ایک ذات کو دوسری ذات کے خلاف کھڑا کرنے کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں، جس سے سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر ان ضوابط کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران جگدگرو پرمہنس آچاریہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر نئے یو جی سی ضوابط منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان قواعد کے نتیجے میں عام زمرے کی بڑی تعداد میں طالبات کو غیر محفوظ حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کے اثرات مستقبل میں سماجی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت انتظامی بحران میں بدل گیا جب بریلی کے سٹی مجسٹریٹ الانکار اگنی ہوتری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے بعد معطلی کی کارروائی سے ناراض ہو کر انہوں نے نیا قدم اٹھاتے ہوئے دھرنا شروع کر دیا۔ اگنی ہوتری کا کہنا ہے کہ انہوں نے شَنکراچاریہ کی توہین اور یو جی سی قوانین کے خلاف احتجاج کے طور پر یہ فیصلہ کیا تھا۔ ان کے دھرنے کے بعد بریلی میں انتظامیہ نے سکیورٹی سخت کر دی ہے اور حساس علاقوں میں پولیس کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔سیاسی محاذ پر بھی یہ معاملہ حکمراں جماعت کے لیے اندرونی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسان مورچہ کے ایک مقامی عہدیدار شیام سندر ترپاٹھی نے یو جی سی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے علاوہ لکھنؤ کے بخشی تالاب علاقے سے وابستہ پارٹی کے ایک اور عہدیدار انکت تیواری نے بھی تنظیمی ذمہ داریوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط سماج کے ایک بڑے طبقے کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کر سکتے ہیں۔









