امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا ’’عظیم دوست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت، انڈو-پیسفک خطے میں امریکہ کا ایک نہایت اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ بھارت میں امریکی سفارت خانے نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ کے ان خیالات کو اجاگر کیا۔ امریکی سفارت خانے کی جانب سے کی گئی پوسٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے بھارت کو ایک ’’حیرت انگیز ملک‘‘ قرار دیا، جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا حامل ہے۔ امریکی سفارت خانے نے پوسٹ میں صدر ٹرمپ کے حوالے سے کہا : ’’بھارت دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کا گہوارہ ہے۔ یہ ایک شاندار ملک ہے اور انڈو۔پیسفک خطے میں امریکہ کا ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ وزیر اعظم مودی کی صورت میں ہمیں ایک عظیم دوست حاصل ہے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی شراکت داری کو آگے بڑھانے اور اس میں رفتار برقرار رکھنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ گفتگو ایسے وقت ہوئی جب دونوں ممالک ایک متوقع اور طویل عرصے سے زیر التوا دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان یہ فون کال اسی دن ہوئی جب بھارتی اور امریکی مذاکرات کاروں نے دو روزہ بات چیت مکمل کی، جس کا مقصد مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدہ تھا۔ اس معاہدے سے بھارت کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر عائد کی گئی بھاری 50 فیصد درآمدی محصولات (ٹیرف) سے ممکنہ ریلیف ملنے کی امید ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس گفتگو کو ’’گرم جوش اور خوشگوار‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا : ’’ہم نے دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بھارت اور امریکہ عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔‘‘
تاہم وزیر اعظم نے اپنے بیان میں تجارتی معاملات کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔

یہ صورتحال اس دور کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جب اگست میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ اس وقت صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا کر 50 فیصد کر دیا تھا، جس میں بھارت کی جانب سے روسی خام تیل کی خریداری پر 25 فیصد اضافی ڈیوٹی بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ، امریکی حکام کی جانب سے نئی دہلی پر مسلسل تنقید نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا تھا۔

تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں جانب سے تعلقات کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت-امریکہ دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی مسلسل پیش رفت کا جائزہ لیا اور اہم علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

گفتگو سے واقف حکام کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور تجارت، اہم ٹیکنالوجیز، توانائی، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا۔

دونوں قائدین نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی تعاون پر اتفاق کیا، جبکہ تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں مسلسل بہتری پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔ اس کے ساتھ ہی مختلف علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی گفتگو ہوئی اور مستقبل میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اشتہار

بھارت اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ ایک دہائی میں اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک پہنچ چکے ہیں، خاص طور پر انڈو۔پیسفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ کے دور میں تجارتی معاملات، ٹیرف اور روسی تیل کی خریداری جیسے مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی، تاہم حالیہ ہفتوں میں سفارتی روابط اور اعلیٰ سطحی بات چیت سے تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔ مجوزہ تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Whatsapp
Facebook
Telegram
Twitter

نیوز18اردو ہندوستان میں اردو کی سب سے بڑی نیوز ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ برائے مہربانی ہمارے واٹس چینل کو لائیو، تازہ ترین خبروں اور ویڈیوز کے لئے فالو کریں۔آپ ہماری ویب سائٹ پر خبروں، تصاویر اور خیالات کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ، کرکٹ جیسے کھیلوں اور لائف اسٹائل سے منسلک مواد دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز،شیئرچیٹ، ڈیلی ہنٹ جیسے ایپس پر بھی فالوکرسکتے ہیں۔
Tags: Donald Trump , PM Modi

First Published : December 16, 2025, 5:24 pm IST