کینبرا،10 مارچ (یواین آئی ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قومی خواتین فٹ بال ٹیم کی کھلاڑیوں کو امریکہ میں پناہ دینے کی پیشکش کی ہے۔ ٹرمپ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ کھلاڑی ایران واپس گئیں تو انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے آسٹریلوی وزیر اعظم اینتھونی البانیز سے رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ ایرانی کھلاڑیوں کو زبردستی واپس نہ بھیجیں۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا”آسٹریلیا ایرانی خواتین فٹ بال ٹیم کو واپس ایران بھیج کر ایک سنگین انسانی غلطی کر رہا ہے۔ مسٹر پرائم منسٹر، انہیں پناہ دیں، اگر آپ نہیں دیں گے تو امریکہ انہیں خوش آمدید کہے گا۔ٹرمپ کے مطابق، وزیر اعظم البانیز اس معاملے پر کام کر رہے ہیں اور اب تک 5 کھلاڑیوں کو آسٹریلیا میں پناہ دے دی گئی ہے، جبکہ باقی کھلاڑیوں کے حوالے سے عمل جاری ہے۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایرانی خواتین ٹیم نے ایک میچ سے قبل اپنا قومی ترانہ نہیں گایا۔ اس اقدام کے بعد ایرانی سرکاری ٹی وی پر انہیں “غدار” قرار دیا گیا، جس سے ان کی زندگیوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گیا۔ صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ آسٹریلیا میں ایرانی حکام نے ان خواتین کو مسلح پہرے میں رکھا ہوا تھا تاکہ وہ فرار نہ ہو سکیں۔ کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم بس کی کھڑکیوں سے مدد کے لیے اشارے (ایس او ایس سنگلس ) کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ کچھ کھلاڑی اپنے خاندانوں کی حفاظت کے پیش نظر واپس جانے پر مجبور محسوس کر رہی ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ان کے واپس نہ جانے کی صورت میں ایران میں ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کھلاڑیوں کو کسی صورت ایران واپس نہ بھیجا جائے۔
وزیر اعظم البانیز نے یقین دلایا ہے کہ وہ ٹیم کی دیگر خواتین کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں اگر وہ پناہ کی درخواست کرتی ہیں۔