بھوپال24 جون: ، گزشتہ ایک ہفتہ سے میٹرو ریل پروجیکٹ کے باعث جنسی چوراہا، بھارت ٹاکیز اور پربھات چوراہا کو جوڑنے والیمرکزی سڑک “پل بوگدہ” مکمل طور پر بند ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 50 سے 60 ہزار کی آبادی رہتی ہے۔ا سکول کے بچے، بوڑھے، محنت کش اور تاجر روزانہ اس راستے سے سفر کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ علاقے میں واقع باغ فرحت افزا قبرستان اور سبھاش نگر شمشان گھاٹ تک میت کو لے جانے کا یہ واحد راستہ ہے۔ اس راستےکے بند ہونے سے نماز جنازہ اور تدفین کے عمل میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں جو سنگین انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ قریبی اسپتالوں تک پہنچنے کا بھی یہی مرکزی راستہ ہے جو کہ اب مکمل طور پر بند ہے۔ ایمبولینس، پولیس اور فائر بریگیڈ جیسی ایمرجنسی سروسز کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اس سلسلے میں مقامی شہریوں نے بھوپال کلکٹر سے ملاقات کی اور مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ایک میمورنڈم پیش کیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بوگدا پل مین روڈ کو کم از کم دو پہیہ گاڑیوں، پیدل چلنے والوں اور ہنگامی خدمات کے لیے جلد کھول دیا جائے۔کانگریس رہنما محمد شاور اور شہریوں کا واضح طور پر کہنا ہے کہ بوگد ا پل بھوپال کی لائف لائن ہے، اس کا مکمل طور سے بند ہونا شہر کی رفتار کو روکنے کے مترادف ہے۔ انتظامیہ اس کا فوری نوٹس لے اور عوام کے مسائل حل کرے۔