لکھنو 30ستمبر:کانپور کے سیسامئو سے سماجوادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی عرفان سولنکی 33 ماہ بعد منگل (30 ستمبر) کو شام 6 بجے جیل سے ضمانت پر باہر آگئے۔ جیل کے باہر موجود حامیوں نے ان کا زوردار استقبال کیا۔ جیل سے باہر آنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عرفان سولنکی نے اپنا پہلا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ انصاف کی جیت ہے۔‘‘ واضح ہو کہ گینگسٹر ایکٹ کے تحت درج معاملے میں انہیں مہاراج گنج جیل سے ضمانت پر رہائی ملی ہے۔ عرفان سولنکی کو تمام معاملوں میں پہلے ہی ضمانت مل چکی تھی، لیکن گینگسٹر ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ان کی رہائی کا معاملہ پھنسا ہوا تھا۔ عرفان سولنکی کو گزشتہ دنوں ضمانت پر رِہائی کی خوشخبری مل گئی تھی، لیکن کچھ کاغذی کارروائیوں کے بعد آج شام انھیں جیل کی سلاخوں سے باہر نکالا گیا۔ جیل سے باہر آنے کے بعد عرفان سولنکی سب سے پہلے اپنے خاندان کے لوگوں سے ملے اور انہیں گلے لگایا۔ عرفان سولنکی مہاراج گنج جیل سے رہا ہونے کے بعد کانپور میں اپنی رہائش گاہ کی طرف قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ واضح ہو کہ عرفان سولنکی سے قبل سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی بھی رواں ماہ 23 ستمبر کو سیتاپور جیل سے 23 ماہ بعد رہائی ہوئی تھی۔ اعظم خان سیتاپور جیل میں مختلف مقدمات کے تحت بند تھے، جن میں زمین پر قبضہ اور سرکاری جائیداد کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر الزامات شامل ہیں۔ اعظم خان اور عرفان سولنکی کی رِہائی کو اتر پردیش کی سیاست میں بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں کی رہائی سماجوادی پارٹی کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہے۔