’نیکی کر دریا میں ڈال ‘یہ ضرب المثل رفیع صاحب پر صد فیصد صادق آتی ہے۔رفیع صاحب کی دریا دلی کے بے شمار قصے ہیں جو اُن کے انتقال کے بعد منظر عام پر آئے۔کچھ عرصے پہلےشائع کتاب ’داستانِ ہیملتا ‘ میں گلوکارہ ہیملتا نے رفیع صاحب کی سخاوت کا ایک قصہ بیان کیا ہے۔ ہیملتا نے بتایا کہ رفیع صاحب جب بھی اسٹیج شو کے لئے جاتے تھے انہیں یعنی ہیملتا کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک دن رفیع صاحب نے انہیں بلایا اور بتایا کہ انہیں ایک اسٹیج شوکے لئے کلکتہ (کولکاتہ) جانا ہے۔ اس شو میں رفیع صاحب کی بیوی بلقیس بانو صاحبہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے ممبئی سے صبح 6بجے کی فلائٹ پکڑی اور صبح 8بجے کلکتہ پہنچ گئے۔ وہاں ہمارا والہانہ استقبال کیا گیا اور ناشتہ وغیرہ پیش کیا گیا۔ شو کے آرگنائزر کے ذریعہ بھیجی گئی گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے رفیع صاحب نے ڈرائیور سے پوچھا’’بھائی سفر کتنا لمبا ہوگا؟ ڈرائیور نے جواب دیا تقریباً دو گھنٹے میں پہنچ جائیں گے ۔ رفیع صاحب اور ہیملتا دیر رات تک ریکارڈنگ کرنے کی وجہ سے بہت تھک چکے تھے۔ اس لئے سو گئے۔ کچھ دیر بعد رفیع صاحب کی آنکھ کُھلی تو انہوں نے گھڑی کی طرف دیکھا ، گیارہ بجنے والے تھے۔ پھر انہوں نے ڈرائیو ر سے پوچھا کیا ہم پہنچ گئے ہیں بھائی؟اُ س نے جواب دیا نہیں ہم تھوڑی دیر میں پہنچ جائیں گے۔ پھر وہ آپس میں باتیں کرنے لگے ،لیکن گاڑی چلتی رہی۔ دوپہر کا وقت ہوا تو رفیع صاحب حیران رہ گئے۔ انہوں نے تھوڑا طنزیہ انداز میںڈرائیور سے کہا ، کیوں بھائی آپ کیا ہمیں واپس بمبئی لے جارہے ہیں؟ ڈرائیور نے کہا، نہیں جناب بس پہنچنے ہی والے ہیں۔ تینوں کو اب تھکن کے ساتھ بھوک بھی لگ رہی تھی۔ لیکن رفیع صاحب نے اپنا صبرو تحمل قائم رکھا۔ دوپہر ایک بجے کے قریب گاڑی ایک گھاٹ کے قریب جاکر رُکی اور سب نے سکون کی سانس لی، لیکن یہ سکون زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ انہیں (رفیع صاحب ،بلقیس صاحبہ اور ہیملتاکو) بتایا گیا کہ اب انہیں ایک کشتی میں سوار ہوکر دریا پار کرنا ہوگا۔ تینوں کشتی میں سوار ہوئے۔ دریا پار کرنے میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگا۔ جیسے ہی تینوں دریا پار کرکے کنارے پر پہنچے تو وہاں موجود شخص نے انہیں گھوڑا گاڑی میں بیٹھنے کے لئے کہا ۔ اب رفیع صاحب بولے ۔۔۔یا اللہ آج میری قسمت میں کیا لکھا ہے؟‘‘گھوڑا گاڑی مہمانوں کو لیکر ریلوے اسٹیشن کے لئے روانہ ہوئی۔ رفیع صاحب نے دل میں سوچا یا اللہ بس یہی سواری رہ گئی تھی۔ شام چھ بجے سبھی ریل سے شہر پہنچے ، جہاں رفیع صاحب کا خیر مقدم کرنے والا شخص بھی آگیا تھا۔ یہاں تو رفیع صاحب نے اُس سے کچھ نہیں کہا سوائے کھانے پینے کا بندوبست کرنے کے۔ رفیع صاحب اور ہیملتا جس سرکٹ ہاؤس میں ٹھہرے تھے وہ بہت چھوٹا تھا اور سمندر کے قریب تھا۔ لیکن رفیع صاحب تو بحر ِ عرب سے خلیج بنگال آئے ہوئے تھے۔ تینوں نے کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کرے کی خواہش ظاہر کی۔ بنگال میں موسیقی کی محفلیں رات بھر چلتی رہتی ہیں۔ پہلے مقامی فنکار گاتے ہیں اور پھر مہمان فنکار۔ اس حساب سے رفیع صاحب اور ہیملتا کو رات 3 بجے اسٹیج پر پہنچ کر صبح 6 بجے تک گانا تھا۔ کیونکہ تینوں ایک لمبا سفر طے کرنے کے بعد یہاں پہنچے تھے اور انہیں آرام سخت ضرورت تھی۔ لیکن سرکٹ ہاؤس میں صرف ایک ہی بیڈ(بستر )تھا اور اُس پر صرف ایک ہی شخص سو سکتا تھا۔کسی طرح ایک اور بستر کا انتظام کیا گیا۔
اور ایک خالی بستر کا انتظام کیا گیا۔ ایک پلنگ پر رفیع صاحب، دوسرے پلنگ پر اُنکی بیوی اور اِن دونوں کے پلنگوں کے درمیان پھیلے ہوئے گدے پر ہیملتا سو گئیں تھیں۔ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ باہر سے زور زور سے دروازہ کھٹ کھٹانے کی آواز سن کر تینوں فوراً جاگ گئے۔ابھی ایک بھی نہیں بجا تھا۔ہیملتا نے اٹھ کر دروازہ کھولا سامنے شو کا آرگنائزر کھڑا تھا اور زاروقطار روتے ہوئے چھاتی پیٹ پیٹ کر کہہ رہا تھا میں برباد ہو گیا مجھے لوٹ لیا گیا۔رفیع صاحب اندر تھے۔عجیب و غریب صورتحال تھی۔ ہیملتا نے غصے سے پوچھا “یہ بتاؤ کیا ہوا“؟ اُس آرگنائزر نے کہا میری بیوی بچوں سمیت بھاگ گئی ہے مجھے لوٹ کر۔رفیع صاحب، بلقیس صاحبہ اور ہیملتا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اچانک یہ کیا ہو گیا اور یہ شخص پولس کے پاس جانے کے بجائے ہمارے سامنے کیوں رو رہا ہے اور ہم سے کیا چاہتا ہے؟اُس آرگنائزر نے بتایا کہ ایک طوفان آیا اور پنڈال(جہاں پروگرام ہونا تھا)اور اُسکے گھر کو بھی بہا کر لے گیا۔اگلی بار جب آپ فون کریں گے، اُس نے اب رونا چھوڑ دیا تھا۔
اگلے دن یہ تینوں واپس کلکتہ ایئر پورٹ آئے۔شو کا آرگنائزر بھی انہیں چھوڑنے آیا تھا۔رفیع صاحب نے بورڈنگ پاس لیا ایئر پورٹ میں داخل ہونے سے پہلے ایک لفافہ آرگنائزر کو دیا اور اپنے ساتھ آنے والی ہیملتا سے کہا پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔تھوڑی چلنے کے بعد ہیملتا خود پر قابو نہ رکھ سکیں اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو آرگنائزر لفافہ پکڑے ہوئے رو رہا تھا۔اُس کی آنکھیں دیکھ کر ایسا لگا جیسے وہ رفیع صاحب کے قدموں میں گرنا چاہتا ہو۔دراصل رفیع صاحب نے ان کی پوری اجرت اُسے واپس کر دی تھی۔
گلوکارہ ہیملتا فلموں کے ساتھ اسٹیج شو کے لئے بھی بہت مقبول تھیں۔حالانکہ اسٹیج پر انہوں نے زیادہ تر لتا منگیشکر کے گانے گائے۔لیکن جب بھی انہیں موقع ملا انہوں نے نورجہاں، شمشاد بیگم،گیتادت،مبارک بیگم اور آشا بھونسلے جیسی گلوکاراؤں کے گانے بھی گائے۔ جس وجہ سے وہ ملک و بیرونِ ملک اسٹیج شو کے لئے کافی مقبول تھیں۔ رفیع صاحب کی شرافت،سادگی دریا دلی کے ایسے ہی بے شمار قصے ہیں۔









