پٹنہ 3نومبر:کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بہار اسمبلی انتخاب کے پیش نظر زور و شور سے تشہیری میدان میں اتر گئی ہیں۔ آج صبح پرینکا گاندھی نے سونبرسا میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف این ڈی اے حکومت کی بدتر کارکردگی کو نشانہ بنایا، بلکہ بی جے پی-جے ڈی یو حکومت پر خواتین کو ٹھگنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی-جے ڈی یو حکومت نے صرف خواتین کو ٹھگنے کا کام کیا ہے۔ کبھی خواتین کی پریشانیوں کو نہیں سمجھا، اور اب انتخاب کے وقت پیسے دے کر ووٹ خریدنا چاہتے ہیں۔ لیکن بہار ان کی اس نیت کو سمجھ چکا ہے، اس لیے ووٹ کی چوٹ سے سخت جواب دیا جائے گا۔ ان سے 10 ہزار روپے لے لو، لیکن انھیں اپنا ووٹ مت دو۔‘‘ بہار میں ہجرت کے مسئلہ پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ریاست کے لوگ کشمیر سے لے کر کنیاکماری تک کام کرنے جاتے ہیں۔ وہ صرف تہواروں پر ہی اپنے کنبوں سے ملتے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’بہار سے لاکھوں لوگ ہجرت کر کے دوسری ریاستوں میں کمانے جاتے ہیں۔ لوگ اپنے کنبوں سے دور رہ کر محنت کرتے ہیں، دن رات مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، کیونکہ یہاں پر کسی کو روزگار نہیں مل رہا ہے، جبکہ اس ملک کو بنانے والے لوگ بہار سے ہیں۔‘‘ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پرینکا کہتی ہیں ’’پہلے لوگ زراعت سے کما لیتے تھے، لیکن آج اس میں بھی کمائی نہیں ہے۔ یہاں کے کسان محنت کرتے ہیں، لیکن فصل کی صحیح قیمت نہیں ملتی۔ آج حالات ایسے ہیں کہ ملازمت نہ ملنے پر لوگوں کو ہجرت کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔‘‘ پرینکا نے یہ سوال بھی کیا کہ ’’نہ سیکورٹی ہے، نہ روزگار ہے، تو انھوں نے 20 سالوں میں کیا کیا ہے؟ انھوں نے چھوٹے کاروباریوں کے لیے بھی کچھ نہیں کیا اور نوٹ بندی کر ان کی کمر بھی توڑ دی۔‘‘









