نئی دہلی 24ستمبر: ایودھیا میں ایک بار پھر مسجد کی تعمیر کے حوالے سے بحث گرم ہو گئی ہے۔ دھنّی پور میں پانچ ایکڑ زمین پر مسجد کی تعمیر انڈو اسلامک ٹرسٹ فاؤنڈیشن کی سرپرستی میں ہونی تھی۔ اسی اثنا میں مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ دراصل مسجد کے نقشے کی منظوری کے لیے درخواست دی گئی تھی، مگر ترقیاتی اتھارٹی نے اس نقشے کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب، بابری مسجد مقدمہ کے فریق اقبال انصاری نے بھی ایک بڑا مطالبہ کیا ہے۔ اقبال انصاری کے مطابق دھنّی پور میں مسجد کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہاں پہلے سے ہی کئی مساجد موجود ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُس زمین پر کھیتی ہونی چاہیے اور جو بھی اناج پیدا ہو اسے ہندو اور مسلمان میں بانٹ دیا جانا چاہیے تاکہ ایودھیا سے گنگا۔جمنی تہذیب کی ایک مثال قائم کی جا سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ 2019 میں مندر۔مسجد کے تنازع میں سپریم کورٹ نے رام جنم بھومی تنازع پر فیصلہ دیا تھا۔ عدالت نے مندر کے حق میں فیصلہ سنایا اور مسلم برادری کو ایودھیا سے تقریباً 22 کلومیٹر دور دھنّی پور میں پانچ ایکڑ زمین مسجد کی تعمیر کے لیے دی تھی۔ تاہم تاحال وہاں مسجد کی تعمیر شروع نہیں ہو سکی ہے، جبکہ مندر کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اب یہ دیکھنے والی بات ہے کہ مسجد کی تعمیر کب مکمل ہوگی، مگر بابری مسجد کے سابق فریق اقبال انصاری کا اپنا الگ موقف ہے۔ اقبال انصاری نے بتایا کہ دھنّی پور کی زمین حقیقت میں بابری مسجد کی ملکیت تھی، جسے حکومت نے فراہم کیا ، یہ ایک مثبت قدم ہے۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ وہاں پہلے ہی کئی مساجد موجود ہیں اور وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ مسجد کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ زمین زرخیز ہے اور اس پر کھیتی ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے کہاکہ ’’آج کل نقشے تو دکھائے جاتے ہیں مگر کام کچھ خاص نہیں ہوتا۔ مسجد تعمیر کرنے والے ٹرسٹس کو چاہیئے کہ وہاں کھیتی کریں ، چندہ جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ اقبال انصاری نے مزید کہا کہ سماج، مذہب، فرقہ اور ذات سب انسانوں کے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے وہی کام ہونا چاہیے جو انسانوں کو فائدہ پہنچائے۔ جو اناج پیدا ہوگا، وہ ہندو اور مسلمان دونوں میں بانٹ دیا جائے۔ اقبال انصاری نے ایک اور بیان میں کہا کہ ہندوستان کے مسلمان اس مخصوص مقام پر مسجد بنانے کے خواہاں نہیں کیونکہ وہ خود بابری مسجد کے سابق فریق رہے ہیں، مگر اُس ٹرسٹ میں کسی بھی سابق فریق کو جگہ نہیں دی گئی۔
ترقیاتی اتھارٹی کی جانب سے نقشہ مسترد کیے جانے پر اقبال انصاری نے کہا کہ ترقیاتی اتھارٹی نے درست فیصلہ کیا ہے۔