بھوپال:23؍ستمبر:وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستانی یوگا اور آیورویدک طبی طریقہ علاج کو ایک بار پھر دنیا میں وقار حاصل ہوا ہے۔ ہندوستانی ثقافت اور طرزِ زندگی میں آیوروید صدیوں سے شامل ہے۔ ہماری باورچی خانے کی اشیاء اور کھانے میں استعمال ہونے والے مصالحے بھی آیوروید پر مبنی ہیں۔ ہندوستانی ثقافت اور ویدوں کے علم میں ’سب خوش رہیں‘ اور ’پوری دنیا ایک خاندان ہے‘ کے جذبات پوشیدہ ہیں۔ ہم دنیا کی خوشحال اور صحت مند زندگی کی خواہش کرتے ہیں اور پوری دنیا کو ایک خاندان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ آیوروید واحد طبی طریقہ ہے جو اس اصول پر یقین رکھتا ہے کہ صحت صرف بیماری کا علاج نہیں بلکہ بیماری سے بچاؤ بھی ہے۔ آیوروید غذا، خیالات اور طرزِ عمل میں توازن برقرار رکھنا سکھاتا ہے۔ اس میں بیماری سے پہلے ہی انسان کو صحت مند رکھنا اہم ہے۔ کورونا کے دور میں انسانی زندگی کے تحفظ میں یوگا، پرانایام اور آیوروید نے اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔ ہندوستان کا شاندار ماضی مغربی ممالک میں دوبارہ وقار حاصل کر رہا ہے۔ اس سال اسکاٹ لینڈ کے ایڈنبرا میں دنیا کے قدیم ترین جراحی ادارے رائل کالج آف سرجنز میں جراحی کے بانی مہارشی سشروت کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سال 2014 تک آیوش کی مارکیٹ تقریباً 3 بلین ڈالر کی تھی، جو اب بڑھ کر 43 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ ریاستی حکومت آیوروید کی مسلسل حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آیوش انٹرن ڈاکٹروں کے وظیفے میں اضافہ کرنے کے مطالبے پر کہا کہ اس موضوع پر آیوش وزیر مسٹر اندر سنگھ پرمار سے گفتگو کے بعد مناسب ہدایات دی جا چکی ہیں۔ جلد ہی انٹرن ڈاکٹروں کو خوشخبری ملے گی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کو 11ویں قومی آیوروید دن کے موقع پر پنڈت خوشی لال شرما سرکاری خود مختار آیورویدک میڈیکل کالج میں منعقد ریاستی سطح کے پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
آیوروید نمائش کا افتتاح ہوا
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے میڈیکل کالج کے سلور جوبلی آڈیٹوریم میں بھگوان دھنونتری جی کی مورتی کے سامنے چراغ روشن کرکے پروگرام کا آغاز کیا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اس سے پہلے احاطے میں خون چندن کا پودا لگایا اور عام لوگوں کو روایتی طبی طریقہ? علاج سے جوڑنے کے لیے لگائی گئی آیوروید نمائش کا افتتاح کرکے مختلف اسٹالوں کا بھی معائنہ کیا۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آیوروید دن کے موقع پر صوبے کے عوام کو کئی تحفے دیے۔ اس کے تحت 184 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ 25 آیوش عمارتوں، اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کا تحفہ صوبے کے عوام کے حوالے کیا۔ انہوں نے 4 کروڑ 70 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ 12 آیوش عمارتوں کا افتتاح کیا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے 179 کروڑ روپے کی لاگت سے 13 آیوش عمارتوں، اسپتالوں اور آیورویدک میڈیکل کالجوں کی بنیاد بھی رکھی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آیورویدک میڈیکل کالج کے احاطے میں 6 ایکڑ رقبے پر قائم اسٹیٹ کمپوزٹ ہربل گارڈن کا بھی افتتاح کیا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے قبائلی اکثریتی ضلع ڈنڈوری میں آیوروید کو فروغ دینے کے لیے قائم 102 کروڑ روپے کی لاگت والے میڈیکل کالج کا افتتاح بھی کیا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے آیوش ویلنس ٹورزم مراکز کے ناموں کی نقاب کشائی کی، اب یہ مراکز آیوش آروگیَم دھام کے نام سے جانے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پنڈت خوشی لال میڈیکل کالج میں قائم ہربل گارڈن آف اسٹیٹ امپورٹنس کے عوامی داخلے کا بھی افتتاح کیا۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہندوستان نے دنیا کو آٹھ عظیم کامیابیوں کے ذریعے اپنی اہمیت بتائی ہے۔ ان کامیابیوں میں صفر، اعشاریہ، یوگا، آیوروید، علمِ فلکیات، علمِ نجوم، فنِ تعمیر اور روحانیت بھی شامل ہیں۔ علمِ فلکیات کے حساب کے مطابق 23 ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ برابر ہوتا ہے۔ اسی لیے اس دن کو قومی آیوروید دن کے طور پر منانے کی پہل کی گئی ہے۔ اسی طرح 21 جون کو بین الاقوامی یوگا دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں یوگا دن کے موقع پر مختلف پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ 21 جون کو سورج شمالی سمت سے جنوبی سمت میں داخل ہوتا ہے۔ ہندوستانی ثقافت سورج پر مبنی رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آیوروید کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب کسی علاقے میں کوئی بیماری پھیلتی ہے تو اس کی دوا آس پاس 25 سے 30 کلومیٹر کے دائرے میں موجود ہوتی ہے۔ ہم بیمار ہونے کے بعد ہی علاج کیوں تلاش کریں۔ اسی لیے ویلنس کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ہمیں اپنے روزمرہ معمول اور کھانے پینے کے ذریعے خود کو صحت مند رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یوگا اور آیوروید پر مبنی طرزِ زندگی اپنا کر ہم بغیر کسی دشواری کے بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ خدا نے ہمیں جسم کی شکل میں ایک مندر دیا ہے، جسے صحت مند رکھنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ کووڈ کے دور میں سب نے آیوروید کی اہمیت دیکھی ہے۔ آیوروید ایسا طبی طریقہ علاج ہے جو زندگی بھر ہمیں بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
سیاحت کے ذریعے بھی صوبے میں آیوش طبی طریقہ علاج کو فروغ دیا جا رہا ہے
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں پہلا آیورویدک میڈیکل کالج کا احاطہ 1916 میں گوالیار میں بنایا گیا۔ اس کے بعد 1972 میں تین عمارتیں جبل پور، اندور اور اجین میں بنائی گئیں۔ اس کے بعد برہان پور اور پھر بھوپال میں پنڈت خوشی لال میڈیکل کالج قائم کیا گیا۔ ہماری حکومت نے صوبے میں 9 نئے آیورویدک میڈیکل کالج قائم کرنے کی شروعات کی ہے۔
آیوش طبی طریقہ علاج کو فروغ دینے کے لیے ریاستی حکومت نے سال 2002-03 کے مقابلے میں آیوش محکمہ کے بجٹ میں 16 گنا اضافہ کیا ہے۔ اہم سیاحتی مقامات پر 12 آیوش ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹر کھولے جا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت سیاحت کے ذریعے آیوش طبی طریقہ علاج کو فروغ دے رہی ہے۔
اعلیٰ تعلیم اور آیوش کے وزیر مسٹر اندر سنگھ پرمار نے کہا کہ ہندوستانی طبی طریقہ علاج کے مستقبل میں آیوروید کا اپنا الگ مقام ہوگا۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو کی قیادت میں صوبے میں مسلسل میڈیکل اور آیورویدک میڈیکل کالجوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ صوبے میں 2023 تک 7 آیورویدک اور 2 ہومیوپیتھی و یونانی طریقہ علاج کے میڈیکل کالج تھے۔ صوبے میں 9 آیوش میڈیکل کالج چلائے جا رہے ہیں اور اس وقت 8 نئے آیورویدک میڈیکل کالج زیرِ تعمیر ہیں۔ صوبے میں 1,773 آیورویدک دواخانے، 800 آیوشمان آروگیہ مندر اور 58 آیوش ونگ کام کر رہے ہیں۔ صوبے کے 31 سکل سیل سے متاثرہ اضلاع میں بھی آیوش محکمہ فعال ہے۔ عام شہریوں کو یوگا سکھانے کے لیے کلاسیں شروع کی گئی ہیں۔
پرنسپل سکریٹری آیوش مسٹر شوبھت جین نے کہا کہ آیوروید صرف ایک طبی طریقہ علاج نہیں بلکہ ہماری قدیم تہذیب کا اہم حصہ ہے۔ یہ ادویات کے ساتھ ذہن، جسم اور روح کے توازن پر مبنی ہے۔ آیوروید نے صدیوں پہلے ہی ویلنس کے تصور کو بیان کر دیا تھا۔ چرک سنہتا اور سشروت سنہتا میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ آیوش محکمہ آیورویدک طب اور ڈاکٹروں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ پروگرام میں وزیرِ مملکت آزادانہ چارج مسز کرشنا گور، رکنِ اسمبلی مسٹر بھگوان داس سبنانی، مدھیہ پردیش ہاؤسنگ بورڈ کے صدر مسٹر اوم جین، مسٹر رویندر یتی، آیوش کمشنر مسز اوشا مہیشوری سمیت محکمہ جاتی افسران، آیوش ڈاکٹر، متعدد عوامی نمائندے اور بڑی تعداد میں آیوش کے طلبہ موجود تھے۔