نئی دہلی 13فروری:’ایپسٹین فائلز‘ معاملہ پر کانگریس لگاتار مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو ہدف تنقید بنا رہی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔ خاص طور سے ہردیپ سنگھ پوری کے جوابی حملوں اور ان کے بیانات کو سامنے رکھ کر کانگریس کے سرکردہ لیڈران ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کئی بار کر چکے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی ترجمان پون کھیڑا نے آج پریس کانفرنس میں ایک بار پھر ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، اور ان کے کئی بیانات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔ پون کھیڑا نے کہا کہ ’’گزشتہ کچھ وقت سے ایپسٹین فائلز کو لے کر پوری دنیا میں بحث جاری ہے۔ اس معاملہ میں 7 ممالک کے لیڈران نے استعفے دیے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ نریندر مودی اور ہردیپ سنگھ پوری کا نام بھی اس میں شامل ہے۔‘‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہردیپ سنگھ پوری نے اس بارے میں منھ کھولا، کچھ انٹرویوز دیے جن میں جم کر جھوٹ بولا۔ یہ وہی ہردیپ سنگھ پوری ہیں جنھیں بغیر رکن پارلیمنٹ بنے ہی نریندر مودی نے وزیر بنا دیا۔‘‘ہردیپ سنگھ پوری کے کچھ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، جب وہ پہلی بار ایپسٹین سے ملنے جا رہے تھے تو انھیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، کیونکہ انھیں کہا گیا تھا کہ ڈرائیور انھیں چھوڑ دے گا۔ یہ کتنا شرمناک ہے کہ ایسی بات ایک خارجہ سروس کا افسر کہہ رہا ہے، جو کہ امریکہ میں سفیر تھا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں ’’ہردیپ سنگھ پوری نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ایپسٹین سے ملنے جاتے وقت اچھا محسوس نہیں کیا تو گوگل کیا کہ کہاں جا رہا ہوں، اور پھر آپس میں پوچھا کہ کیا ایپسٹین سے ملنے جانا چاہیے۔








