کراچی (پ ر) محبان بھوپال فورم کے زیراہتمام،اردولغت بورڈ کے تعاون سے ڈاکٹر افضل رضوی کی کلامِ اقبال میں موجود نباتاتی عناصر کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق کی کتاب”درِبرگِ لَالہ وگل(جلد سوم) کی تقریب پذیرائی وتعارف کی ایک پروقارشام میں شہر کی مشہور ومعروف شخصیات نے شرکت کی۔صدارت کے فرائض پروفیسر سحر انصاری نے انجام دیئے جبکہ مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل تھے۔اظہار خیال کرنے والے والوں میں پروفیسر ڈاکٹررئیس صمدانی،پروفیسر سیماناز، ڈاکٹرنزہت انیس،سیدناصر علی اور شگفتہ فرحت شامل تھیں۔تقریب میں نظامت کے فرائض شہر کی مشہور ومعروف اینکر ڈاکٹر فرحانہ اویس نے انجام دیئے۔تقریب کا باقاعدہ آغازسیدطاہرتھانوی نےتلاوت کلام پاک سے کیا،اس کے بعد اپنی خوبصورت آواز میں راحیلہ فیضی نے حمد اور مشہور نعت خواں ثناء علی نے نعتِ رسول مقبولﷺ پڑھنے کی سعادت حاصل کی ۔ابتدائی کلمات میں سابق انچارج اردولغت بورڈجناب شاہد ضمیر نے تمام مہمانانِ گرامی کا شکریہ اداکیا۔ محبان بھوپال فورم کی چیئرپرسن شگفتہ فرحت نے مہمانان گرامی کے نام لیتے ہوئے جو مسند نشینان تھےاور جو سامعین میں بھی موجود تھے تمام کی آمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کی آمد ہی ہماری حوصلہ افزائی کا باعث ہےاورافضل رضوی آسٹریلیا سے کراچی کسی تبرک کی طرح صرف ایک دن کے لیے آئے ہیں مگر آپ آسٹریلیا میں بھی رہ کر اقبال شناسی میں ہی گم رہتے ہیں۔یہ تقریب ہمارے لیے ایک چیلنج بن کر آئی اور ہم نے اسے قبول کیا۔
صاحب کتاب ڈاکٹر آر ایم افضل رضوی نے اپنی ذات، شخصیت اور تحقیقی کام کے حوالے سے گفتگو کی ، ساتھ ہی لاہور سے وابستہ یادوں کا تذکرہ کیا۔آپ نے اپنی کتاب کے حوالے لالہ اور گل کے استعارات کی تفصیلات سے آگاہ کیا ،یہ بھی بتایا کہ اس کتاب کی جلد اول میں 18نبات،جلد دوم میں 24نبات اور جلد سوم میں 64نبات کا ذکر ہے۔انہوں نے بتایا کہ اقبال کے 17223اشعار کا مطالعہ کیا اور ان میں سے 2332اشعار علیحدہ کئے جن میں نبات کا ذکر تھا پھر اس حوالے سے مکاتب اقبال کا بھی دقیق مطالعہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ یہ کام کسی کاغذی ڈگری کےلیے نہیں بلکہ علامہ اقبال سے نسبت کےلیے کیا ہے کہ جب تک وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں ان کا نام بھی زندہ رہے گا۔
ممتاز نقاد ، شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر سحر انصاری نے مصنف کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ مصنف نے شعروادب کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا ہے۔علامہ اقبال نئےامکانات کے شاعرتھےعلامہ اقبال کے نام پر ادارے اور کتب خانے قائم ہیں اور تقریباً روز ہی کوئی نہ کوئی تقریب اقبال کے حوالے سے ہوتی ہے،مگرحوالے ختم نہیں ہوتے ۔علامہ اقبال نے جواب شکوہ میں کہا تھا کہ
کوئی قابل ہوتو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والے کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں۔
اور نباتات کے حوالے سے یہ نئی دنیا ڈاکٹر افضل رضوی کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے نہایات جانفشانی سے اقبال اردو اور فارسی کاکلام ،خطوط وغیرہ پر تحقیق کی ہے۔سیدمحمدناصر علی سابق ڈائریکٹر شعبہ تعلقات عامہ اور نشرواشاعت بقائی یونیورسٹی نے کہا کہ “در برگ لالہ وگل”کا موضوع محنت، مطالعے اور علمی بصیرت کا مطالبہ کرتا ہے۔صاحب کتاب نے نباتاتی عناصر کو محض الفاظ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اقبال کے فکری اور فلسفیانہ معانی کو سمجھنے کی کوشش بھی کی ہے ۔معروف شاعر اورمحققہ پروفیسر ڈاکٹر نزہت انیس نے کہا کہ موضوع اقبال ہوں تو اس کا انتخاب ہی افضل بن جاتاہے،ذخیرہ اقبالیات میں یہ تحقیق کسی خزانے سے کم نہیں،یہ تحقیق ڈاکٹرافضل رضوی کی انفرادیت بھی ہے اور نہ صرف شعبہ اقبالیات ،نباتیات بلکہ فلسفہ جمالیات میں گرانقدر اضافہ بھی ہے۔وفاقی اردو یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کی پروفیسر سیماناز صدیقی جنہوں نے ڈاکٹر افضل رضوی کی اقبال شناسی کے حوالے سے تحقیقی مقالے پربھی کام کیا ہےاورایم فل کی ڈگری وصول کی اورانہوں نے ڈاکٹر صاحب کی علمی وادبی شخصیت کے حوالے سے سیرحاصل گفتگو کی اور کہاکہ یہ تخفیف محقیقن کےلیے نئے درکھولتی ہے،نباتات کا موضوع اقبال کے ہاں صرف الفاظ نہیں بلکہ استعارہ ہے ،ساتھ ہی انہوں نے سائنس اور ادب کے گہرے تعلق کے حوالے سے علمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اب کلامِ اقبال میں ارضیاتی حوالوں کےمتعلق تحقیق کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔معروف کالم نگار سوانح نگار اور شاعر پروفیسر رئیس صمدانی نے کہا کہ اقبال اپنے عہد کے عظیم شاعر تھے اور کوئی نبات ایسا نہیں جن پر انہوں نے شعر نہ کہا ہو اور ڈاکٹر افضل رضوی کی کتاب اس موضوع پر خوبصورت شرح ہے ، وہ فعال علمی اور ادبی شخصیت بھی ہیں اور آسٹریلیاان کا وطن ثانی ہے ۔ ماہر تعلیم نقاد اور محقق پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل نے مصنف کے حوالے سے کہا کہ ایسے ملک میں جہاں اردو بولنے والے صرف فکرِ معاش کےلیے جاتےہیں ، آپ وہاں رہ کر ادب کی بڑی کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔اقبال کے موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھ گئی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے مگر ڈاکٹر صاحب کاموضوع بے حد منفرد ہے آپ نے پیش نظر موضوع کا حق اداکردیا ہے،جبکہ اظہار تشکر معروف ادبی علمی شخصیت ندیم ہاشمی نے اداکئے۔اس تقریب میں علمی ،ادبی وسماجی شخصیات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ اہم خواتین وحضرات بڑی تعداد میں موجودتھے۔
بھوپال میں سیوا سیتو ابھیان کے تحت منعقدہ کیمپ کا افتتاح
بھوپال:06؍اکتوبر:وزیراعظم مسٹر نریندر مودی کے وژن کے مطابق عوام کو صاف اور سستی توانائی فراہم کرنے کے لیے ‘پی ایم سوریا گھر مفت بجلی یوجنا کا مؤثر نفاذ ضروری ہے۔ وزیر برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی، مسٹرراکیش شکلا نے منگل کو بھوپال کے رویندر بھون میں ‘سیوا سیتو ابھیان کے تحت منعقدہ ایک کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
وزیر مسٹر شکلا نے زور دیا کہ چھت پر سولر پینل لگانے کے لیے علاقے کے لحاظ سے اہداف مقرر کیے جائیں اور ان کے 100 فیصد حصول کو یقینی بنایا جائے۔ اس کام کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے اور اسکیم کے نفاذ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو دور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والی نسل کو ایک سرسبز اور شمسی توانائی سے چلنے والی مدھیہ پردیش سونپنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری (نئی اور قابلِ تجدید توانائی) مسٹر منو سریواستو نے بتایا کہ سولر پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 2 روپے فی یونٹ ہے، جبکہ کوئلے سے بننے والی بجلی کی لاگت 6 روپے فی یونٹ ہے۔ مزید برآں، شمسی توانائی ماحول کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے؛ لہذا، ہر کسی کو اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
سینٹرل زون بجلی سپلائی کمپنی کے ایم ڈی مسٹر رشی گرگ نے بتایا کہ ریاست میں اب تک 1.88 لاکھ چھت والے سولر پینل نصب کیے جا چکے ہیں اور 750 میگاواٹ کی شمسی توانائی کی صلاحیت تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کیمپوں کے ذریعے عوامی بیداری پیدا کی جا رہی ہے۔
آر ای سی (REC) کے عہدیدار مسٹر وجے کلکرنی نے بتایا کہ قومی ہدف ایک کروڑ گھروں میں چھت والے سولر پینل نصب کرنا ہے، جس میں سے اب تک 51 لاکھ تنصیبات مکمل ہو چکی ہیں۔ ویڈیو پریزنٹیشن کے ذریعے سولر پینلز کے استعمال سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئیں۔
وزیر مسٹر شکلا نے سولر پینل سے متعلق معلومات دکھانے والے اسٹالز کا بھی معائنہ کیا۔ شکریہ کی تحریک ‘ارجا وکاس نگم’ کے ایم ڈی شری امت تومر نے پیش کی۔