بھوپال 6فروری: وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش اب ملک کا فوڈ باسکٹ بن چکا ہے۔ مدھیہ پردیش کو زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور دال پیداوار کے شعبے میں ملک کی صفِ اوّل کی ریاست بنانے کا عزم لیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کسانوں، صنعت اور تجارت کو ساتھ لے کر ترقی کا نیا ماڈل تیار کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت زمین ہو یا مشین، ہر سطح پر کسانوں اور تاجروں کو اپنی سرگرمیوں میں توسیع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ کسان کلیان سال میں ریاستی حکومت نے کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ ریاستی حکومت نے تور پر منڈی ٹیکس ہٹا دیا ہے، جس سے دال مل صنعت کو فائدہ ہوگا۔ اْڑد اور مسور پر بھی رعایت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری روزمرہ زندگی میں دالوں کی خاص اہمیت ہے۔ مونگ اور مسور کی دالوں پر محاورے بن چکے ہیں۔ دالوں سے ہمیں پروٹین ملتا ہے۔ یہ فخر کی بات ہے کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دال پیدا کرنے والا اور استعمال کرنے والا ملک ہے۔ سبزی خور ثقافت میں دالیں پروٹین کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو اندور میں آل انڈیا دال مل ایسوسی ایشن کے گرین ایکس انڈیا نمائش کے تحت منعقد پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے ریاست میں دودھ اور دالوں کی فصلوں کی پیداوار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ دودھ کی پیداوار کو 9 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد تک کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ریاست میں مسور اور اْڑد کی پیداوار بڑھانے کے لیے جلد ہی بونس دینے کی منصوبہ بندی تیار کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ فوڈ پروسیسنگ پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ اس سے کسانوں کے ساتھ صنعت کاروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ اندور میں صنعت اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن مدد دی جائے گی۔ مدھیہ پردیش ملک کے وسط میں واقع ہے، یہاں سڑک، ریل اور ہوائی رابطہ بہت اچھا ہے۔ ایئر کارگو کی ترقی کے لیے کوششیں جاری ہیں، جس سے کاروبار کو رفتار ملے گی۔ دال مل سے وابستہ صنعت کاروں، مشین سازوں، برآمد کنندگان، تاجروں اور کسانوں کے ساتھ ریاستی حکومت کے نمائندوں کی ورکشاپ جلد بھوبال میں منعقد کی جائے گی