نئی دہلی29جنوری: شہری ہوابازی کے ماہر اور کونسل آف انڈین ایویشن کے سربراہ نتن جادھو نے پونے کے بارامتی میں ہوئے وائی ایس آر-45 طیارہ حادثہ سے متعلق کچھ اہم جانکاریاں فراہم کی ہیں۔ انھوں نے طیارہ کے ماڈل اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعہ یہ سمجھایا ہے کہ حادثہ کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔ اپنی بات سامنے رکھنے کے لیے انھوں نے اے آئی فوٹیج کا بھی استعمال کیا ہے۔ نتن جادھو نے بتایا کہ وائی ایس آر-45 طیارہ کے دونوں انجن پیچھے کی طرف لگے ہوتے ہیں۔ انھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کیا، جس میں طیارہ کے گرنے کا واقعہ ریکارڈ ہوا ہے۔ ان کے تجزیہ کے مطابق طیارہ کی لینڈنگ میں ویزبلٹی (مرئیت) محض 3 ہزار میٹر تھی، جبکہ اصولوں کے مطابق یہ کم از کم 5 ہزار میٹر ہونی چاہیے۔ ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) نے بھی شروع میں خراب موسم کے سبب لینڈنگ سے منع کیا تھا۔ نتن جادھو کا کہنا ہے کہ چونکہ طیارہ میں وی آئی پی مسافر سوار تھے اور انھیں شام تک ممبئی پہنچنا تھا، اس لیے پائلٹ سُمت کپور نے صبح 8.40 بجے اے ٹی سی سے بات کرنے کے بعد رَنوے 11/29 پر کم ویزبلٹی ہونے کے باوجود لینڈنگ کا فیصلہ لیا۔ انھوں نے طیارہ کو بائیں طرف موڑا (لیفٹ ٹرن) اور دوبارہ رَنوے پر اتارنے کی کوشش کی۔ اس دوران طیارہ کی رفتار زیادہ تھی اور رَنوے صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس وجہ سے طیارہ کا بیلنس بگڑ گیا اور وہ ’اسٹال‘ کی حالت میں آ گیا۔ ایک بار طیارہ ’اسٹال‘ ہو جائے تو اسے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طیارہ نیچے گر گیا اور خوفناک دھماکہ ہوا۔








