متحد ہو تو بدل ڈالو زمانے کا نظام
منتشر ہو تو پٹو، شور مچاتے کیوں ہو؟
تمام مسلمانوں کا یقین ہی نہیں مکمل عقیدہ ہے کہ ہمارا رب ایک ہے، ہمارا نبی ایک ہے وہی آخری پیغمبر ہیں ، ہمارا کلمہ ایک ہے، ہماری کتاب ایک ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ ہمارا سب کچھ ایک ہے۔
لیکن اس کے باوجود مسلمان کئی ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں؟کئی سطح پر بٹے ہوئے ہیں۔ کئی لحاظ سے بٹے ہوئے ہیں اور اتحاد و اتفاق کا نعرہ محض بکواس ثابت وہ رہا ہے۔ کہیں مذہبی طور پر فرقہ-مسلک وغیرہ میں تو کہیں سماجی طور پر اشرفیہ، پسماندہ، ارذال، رذیل میں بٹے ہوئے ہیں۔اگر کہیں مسلمان تعلیمی اور اقتصادی طور پرمضبوط ہیں بھی تو ان کی ایک ٹولی /گروہ ہے اور ان کی دنیا ہی الگ ہے وہ تمام کے تمام ایک ہیں لیکن اپنے اُن بھائیوں کے لئے جو سب سے نچلے طبقے کے ہیں اور ہر لحاظ سے دبے کچلے ہیں جن کی حالت قابل رحم ہے اِن حضرات نے ایسے غریب و بے سہارا لوگوں کے لئے کبھی کام نہیں کیا۔اُن کو اگر حقارت کی نظر سے بھلے ہی نہ دیکھتے ہوں مگر اُن کو احساس تو ہوتا ہی ہے کہ اس دنیا میں ان کا کوئی نہیں ہے بس ایک خدا کا سہارا ہے۔اسی طرح سے وہ تمام مذہبی اور سیاسی متحرک رہنما ، وہ تمام مذہبی اور سیاسی رسوخ رکھنے والے لوگ اپنے فرقہ-مسلک، یا اپنی سیاسی پارٹی کے منشور (Manifesto) کی لائن پر بات کرتے ہیں چاہے اس سے قوم و ملت کا بہت بڑا خسارہ ہی کیوں نہ ہو جائے۔الغرض مسلمان مذہبی طور پر، سماجی طور پر، اور سب سے بڑھ کر سیاسی طور پر منقسم ہیں چاہے اس کا تعلق علاقائی یا نظریاتی ہی کیوں نہ ہو ۔ یعنی مسلمانوں میں کبھی بھی اتحاد و اتفاق ہو ہی نہیں سکتاہے۔ اتحاد و اتفاق ناممکن ہی معلوم ہوتا ہے۔
مسلمانوں نے اسلام کا سب سے بڑا سبق، یعنی مساوات اور اخوت اسلامی کو سب سے پہلے بھلا دیا۔ برہمن و شودر کی طرح مسلمانوں نے بھی اپنے اندر اشراف ، اجلاف اور ارذال کی دیواریں کھڑی کر لیں۔ حالانکہ یہ اونچ نیچ ، ذات-پات اسلام میں نہیں ہے لیکن اسلام کے ماننے والوں نے عملی طور پر اسے قائم کر رکھا ہے۔
سید، شیخ، پٹھان، مغل، ملک اور افغان آج بھی خود کو ’’اعلیٰ ذات‘‘ سمجھتے ہیں۔جبکہ قریشی، انصاری، رائینی، منصوری وغیرہ آج بھی ’’پسماندہ‘‘ یا ’’نچلا طبقہ‘‘ کہلائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ نکاح و رشتہ داری کے وقت بھی سب سے پہلے پوچھا جاتا ہے: ’’برادری کیا ہے؟‘‘ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمان قبرستان تک ساتھ جائیں گے اور کچھ حد تک ہی نہیں، کافی حد تک دسترخوان پر بھی ایک ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں مگر رشتے ناطے میں ایک ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ کیا عدم مساوات اور اسلام کے حکم کی خلاف ورزی نہیں؟
افسوس کہ ہمارے مذہبی رہنما بھی خود اپنی ذات، جماعت، فرقہ اور مسلک تک محدود ہیں۔ امت کو جوڑنے کے بجائے یہ خود نئی نئی جماعتوں اور اداروں میں بٹے ہوئے ہیں۔کہیں مسلک تو کہیں ذات پات،تو کہیں فرقہ واریت کا بول بالا ہے۔ کہیں میلاد، کہیں عرس ہو رہا ہے، یا علی مدد، بڑے بزرگوں کی قبروں، درگاہوں پر جلوس اور ان سے مدد طلب کرنے میںمصروف ہیں۔ملت اسی میں بٹی ہوئی ہے مگر کوئی بھی قرآن کی درس و تدریس، معنی کے ساتھ پڑھنے پڑھانے کی بات نہیں کرتا ہے۔ عمل کرنے اور کرانے کی بات نہیں کرتا ہے۔ کل ملا کر ملت جشن مناکر بری الذمہ ہونا چاہتی ہے۔ ہر چیز میں جشن اور بش جشن منایا جاتا ہے اس سے آگے کچھ نہیں۔
آج تک ایک بھی مشترکہ مسلم پلیٹ فارم نہیں بن سکا، اور نہ ہی کوئی اجتماعی قیادت سامنے آئی۔ مسلمانوں کا کوئی مشترکہ ایجنڈا (Common Agenda)کامن آئیڈولوجی (Common Ideology)،نہیں ہے جس میں مسلمانوں کی تعلیم، روزگار، تحفظ، وراثت،اور گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت جیسے نکال شامل ہو۔جس طریقہ سے منووادی اور پونجی وادی عناصر کا کامن ایجنڈا ہوا کرتا ہے۔ 1947 کے بعد سے مسلم ووٹ ہمیشہ ’’تقسیم‘‘ ہو کر دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہوا، مگر ہمیں آج تک مسلمانوںنے ہوش کے ناخون نہیں لئے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاست میں مسلمانوں کا کوئی وزن نہیںہے اور نہ ہی ان کے اندر سیاسی اور سماجی شعور ہے، کیونکہ ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کے وزن گھٹانے اور ٹانگ کھینچنے میں لگے رہتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری نمائندگی پارلیمنٹ ہو یا صوبائی ایوان ہو سب جگہ صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ آبادی کے تناسب سے ہماری نمائندگی نہیں ہے۔
بھارت کے مسلمانوں کا تقریباً 15-20% فیصد خوشحال طبقہ اپنی عیش و عشرت میں مست ہے۔ ان کے بچے انگلش میڈیم اور بیرونی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔وہ بڑے شہروں کے عالی شان گھروں میں رہتے ہیں۔ کبھی فارم ہائوس پر تو کبھی کھیتوں پر پارٹیاں ہوتی ہیں۔ان کی سوچ، ان کی فکر اپنے تک محدود ہے، وہ اپنی ذات اور اپنی فیملی کے لئے اور زیادہ سے زیادہ رشتہ داروں تک محدود ہے۔ کبھی بھی سب سے نچلے دبے کچلے لوگوں کے لئے کھل کر منظم طریقے سے ان کی فلاح بہبود کے لئے کام نہیں کیا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ اقتصادی تفاوت (Economic disparity)ہے۔ آج سب سے زیادہ بھکاری ، مزدور اور غریبی لائن سے نیچے مسلم طبقہ ہے۔
آج مسلمانوں کا سب سے امیر اور خوشحال طبقہ نے اپنے سب سے دبے کچلے اور غریب بھائیوں کی بستیوں کا رُخ نہیں کیا اور نہ ان کے لئے آج تک کوئی ٹھوس پہل /قدم اُٹھائے، جس میں ان کی مالی، تعلیمی، سماجی حالت بہتر ہو سکے اور اوپر سے یہ بیانیہ جاری کر دیا گیا کہ مسلمان پڑھتا لکھتا نہیں ہے،یہ کبھی نہیں کہا جاتا کہ مسلمانوں کو پڑھنے لکھنے نہیں دیا گیا۔ ہر وہ کام کیا گیا جس سے مسلمان دوئم/سوئم درجہ کے شہری بن کر رہیں۔ کبھی کسی جگہ غریبوں کیلئے اسکول، لائبریری یا اسپتال وغیرہ بنیادی سہولتیں مہیا نہیں کرائیں۔ امیر اور خوشحال طبقہ کے لوگ تقریریں کرنے ، تصویریں کھنچوانے میںاور اپنے آپ کو سماج میں بڑا دکھانے میں مصروف اور پیش پیش رہتے ہیں اور پھر اپنی دنیا میں گم ہو جاتے ہیں۔ جب کبھی کوئی مسلم سماج پر آفت، مصیبت، ظلم و زیادتی کی بات ہوتی ہے تو مسلمان خطرے میں ہے کا نعرہ دیا جاتا ہے اور اتحاد و اتفاق کی بات کی جاتی ہے۔
ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے وسیع خطۂ ارض میں نہ جانے کتنے ہی مظلوم و بے سہارا لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن جو خوشحال طبقہ ہے وہ ان کی طرف کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔سب سے نچلے طبقے کے یہ لوگ تن تنہا ہیں کوئی ان کے لئے کام نہیں کر رہا ہے اور نہ آج تک کبھی کسی نے کیا۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہے اور نہ آئندہ ہوگا جب تک کہ ہر ایک مسلمان ہر کلمہ گو کو اپنا بھائی تصور نہ کرے۔
مسلمانوں نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنانے کے بجائے اسے نظر انداز کر دیا۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ چاہے ایک روٹی کم کھائیں ، سستا کپڑا پہنیں، مگر آنے والی نسل کو دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کریں۔ دینی و دنیاوی معیاری تعلیم کو ہرحال میں اپنائیں۔ دینی تعلیم سے آخرت تو سدھریگی ہی اچھے اخلاق بھی پیدا ہوں گے نیز دنیاوی معیاری تعلیم سے سماج کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ملے گا۔ سماجی اور سیاسی شعور بیدار ہوگا جو سماج میں عزت و وقار دے گا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک کوئی قوم اقتصادی طور پر طاقتور نہ ہو، اس کی آواز سیاست میں بھی نہیں سنی جاتی۔ مسلمان نہ صنعت کار بن سکے، نہ سرمایہ کاری کی سمت میں آگے بڑھے۔ ہم صرف چھوٹے موٹے روزگار تک محدود رہ گئے ہیں، جبکہ دوسری قومیں مارکیٹ اور معیشت پر قابض ہو گئیں۔
جب ذات برادری ہر جگہ حائل ہو۔ جب سیاسی جماعتوں کا ایجنڈامزید مسلمانوں کو کمزور کر رہا ہو۔ جب اشرفیہ اور نام نہاد اعلیٰ ذات کے لوگ اپنے غریب بھائیوں سے منہ موڑ لیں۔ ایسے میں اتحاد کی بات کرنا محض جملے بازی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں کبھی اتفاق و اتحاد تھا ہی نہیں اور آئندہ بھی نہیں ہو سکتا، جب تک کہ ہم اپنی بیمار سوچ اور سماج میں پھیلی اونچ نیچ سے اوپر نہیں اُٹھیں گے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جو جلسوں میں اتحاد کے نعرے لگاتی ہے، مگر اپنے گھروں میں نا اتفاقیاں کبھی برادری کے نام پر تو کبھی اعلیٰ اور ادنیٰ کے نام کرتی ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو اسلام کا مساوات کا درس دیتی ہے، مگر اپنی بیٹی کا نکاح نچلی ذات میں کرنے کو عار سمجھتی ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو ہر انتخاب میں دھوکہ کھاتی ہے، مگر پھر بھی نہیں سنبھلتی۔ قرآن کا بھی حکم ہے کہ اللہ اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بدلنے پر آمادہ نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی حالت بدلنے پر آمادہ ہیں؟ یا پھر صدیوں تک اسی زوال میں ڈوبے رہنا چاہتے ہیں؟
ہمارے مسائل کی صحیح تصویر کبھی بھی مین اسٹریم میڈیا میں نہیں آتی۔ اس کے باوجود ہم نے آج تک اپنا مضبوط میڈیا نیٹ ورک نہیں بنایا، جو ہمارے ایجنڈے کو دنیا کے سامنے رکھ سکے۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم تمام طرح کی پسماندگی سے چاہے وہ تعلیمی، سماجی، سیاسی، اقتصادی وغیرہ سے باہر نکل کر اتحاد و اتفاق کا نعرہ ہی نہ لگائیں بلکہ متحد ہو نے کے لئے ہر وہ کام کریں جس سے سب متحد ہوں اور منتشر ہونے سے بچیں۔ جن جن چیزوں نے ہمیں تقسیم کیا ہے یا کر رہی ہیں ان سے بچیں۔ ہر کلمہ گو آپس میں ایک دوسرے کو بھائی مانے تو ہم امید کرتے ہیں کہ مسلم قوم ضرور متحد ہوگی۔ورنہ یہ انتشار ہمیں آج تک ذلیل و رسوا کر رہا ہے اور آگے بھی کرتا رہے گا۔
آج ہمیں تہذیبی/ثقافتی یکجہتی (Cultural Integration) ، تعلیمی یکجہتی (Academic Integration)، فہم و فراست شعور یکجہتی(Intellectual Integration) کے لیے آپس میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی بیداری چلائی جائے، مشترکہ مسلم پلیٹ فارم، مشترکہ کام ایجنڈا وغیرہ بنایا جاکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ذات پات اور برادری سے اُوپر اُٹھ کر قوم کے لئے کام کرنے کا عام مزاج بنایا جائے۔ تعلیم اور اعلیٰ تعلیم، روزگار، معاشی خود کفالت پر توجہ دی جائے۔ اپنی شناخت، وراثت، مادری زبان اور گنگا جمنی تہذیب کو بچانے اور فروغ دینے کے لئے کام کرنا ہوگا اور یہ سب کرنے کے لئے مضبوط میڈیا پلیٹ فارم بنائے جائیں تاکہ انسانیت پر ہونے والے تمام مظالم اور ہر طرح کی ظلم و زیادتی کے خلاف مؤثر آواز بلند کی جائے تبھی ہم اور ہماری قوم ترقی کر سکتی ہے۔