دنیا کے تاریخ دان جب بھارت کی پہلی جنگ آزادی (1857) کا تذکرہ کرتے ہیں تو انگریزوں کے ظلم و ستم، سپاہیوں کی بغاوت اور مظلوموں کی آہ کا ذکر کرتے ہیں، مگر اس جنگ کی ایک اہم کڑی اور ایسی شخصیت کو بھول جاتے ہیں جس کے دربار سے پہلی مرتبہ ’’آزادیِ وطن‘‘ کی صدا بلند ہوئی۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ بھارت کے عظیم مجاہد آزادی بادشاہ بہادر شاہ ظفر ہیں۔
24 اکتوبر 1775کو پیدا ہونے والے بہادر شاہ ظفر وہ عظیم بادشاہ تھے جنہوں نے زوال کے اندھیروں میں بھی امید و حوصلے کی شمع روشن رکھی۔ اگرچہ ان کے دور میں سلطنت دہلی کی حدیں محض لال قلعے تک محدود تھیں، مگر ظفر کا دل پورے بھارت کے خواب سے منور تھا۔ وہ شاعر بھی تھے، صوفی بھی، اور ایک درد مند دل رکھنے والے محبِ وطن انسان بھی۔
1857 کی بغاوت اگرچہ سپاہیوں کی مزاحمت سے شروع ہوئی، لیکن جب دہلی کے دروازے پر وہ مجاہدین آزادی بادشاہِ وقت کو پکارنے آئے، تو بہادر شاہ ظفر نے عمر کے آخری حصے میں قیادت قبول کی۔ یہ فیصلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی، روحانی اور قومی ذمہ داری کا اظہار تھا۔ ان کی قیادت میں غلامی کے خلاف جو بغاوت اٹھی، اس نے پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑکا دی۔
تاریخ کا المیہ یہ رہا کہ جس شخص نے اپنی کمزور جسمانی حالت کے باوجود قوم کے لیے علمِ حریت بلند کیا، اسے غدار قرار دیا گیا۔ انگریزوں نے ان کے خاندان کو تباہ کر دیا، اور خود ظفر کو رنگون (برما) جلا وطن کر دیا۔ وہاں ایک تنہا بادشاہ، جس کے پاس نہ تخت رہا نہ تاج — بس ایک قلم، ایک دلِ درد آشنا اور وطن کی یاد۔ ان کے یہ اشعار اسی کرب کی عکاسی کرتے ہیں:
کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
تاہم، جب ہم مجاہدین آزادی جیسے تاتیا ٹوپے، رانی لکشمی بائی، تانتیا بھیل وغیرہ کو یاد کرتے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بہادر شاہ ظفراس جنگ آزادی کے سپریم کمانڈرتھے ۔ ایک جری، دوراندیش اور باوقار رہنما، جن کی قیادت میں دہلی نے آزادی کا علم بلند کیا۔ ان کی قیادت کو قومی سطح پر یاد کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ بھارت کی آزادی کے پہلے مشترکہ کمانڈر اِن چیف تھے، جنہوں نے مذہب و مسلک سے بالاتر ہو کر ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب کو ایک پرچم تلے متحد کیا۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بہادر شاہ ظفر کے ساتھ ساتھ سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان جیسے عظیم مجاہدین آزادی کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جائے، جنہوں نے اپنی جان و مال قربان کر کے وطنِ عزیز کی بنیاد میں اپنا خون شامل کیا۔
بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں حب الوطنی اور تصوف کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کے کلام میں جو درد ہے، وہ دراصل غلامی کے خلاف بغاوت کی چنگاری ہے۔آج بھی ان کی شاعری ہمیں یہی پیغام دیتی ہے کہ:
نہ تھی حال کی، جب ہمیں اپنے خبر،
رہے دیکھتے تیرے عالم کا حال
بہادر شاہ ظفر کی میراث دراصل بھارت کے اتحاد، محبت اور بھائی چارے کی سب سے بڑی علامت ہے، گنگا جمنی تہذیب کی علمبردار ہے۔ انہوں نے وہ خواب دیکھا جس کی تعبیر 90 برس بعد 1947 میں ملی۔ ان کی شاعری میں حب الوطنی، تصوف اور انسانی ہمدردی کا حسین امتزاج ہے، جو آج بھی ہمیں بیدار رہنے کا پیغام دیتی ہے۔ جس وقت انگریز نے بہادر شاہ ظفر کو للکارتے ہوئے یہ اشعار کہے تھے کہ دم دمِ میں دم نہیں اب خیر مانگو جان کی ، اس کے جواب میں بادشاہ ظفر نے جو تاریخی اشعار کہے تھے وہ ایک دلیر کمانڈر ہی کہہ سکتا ہے۔ انہوںنے کہا ؎
غازیوں میں بو رہے گی جب تلک ایمان کی
تخت لندن تک چلے گی تیغ ہندوستان کی
آج ضرورت ہے کہ ہم بہادر شاہ ظفر کو صرف تاریخ کے صفحات میں نہیں، بلکہ قومی شعور میں زندہ کریں۔ایک عظیم مجاہد آزادی ، مغل بادشاہ جس نے قوم و ملت کے لئے اپنا سب کچھ یہاں تک کہ اپنے بیٹوں کی قربانیاں بھی دی آج ہم اور آپ نے انہیں فراموش کر دیا ہے جو ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔
ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بہادر شاہ ظفر کے نام پر ایک مرکزی یونیورسٹی قائم کی جائے، تاکہ نئی نسل ان کے افکار و قربانیوں سے روشناس ہو۔ ساتھ ہی جن علاقوں میں ان کی قیادت کی گونج سنائی دی تھی ،جن میں میرٹھ، بجنور، آگرہ، کانپور، جھانسی، لکھنؤ، بریلی، گوالیار، جگدیش پور آرا قابل ذکر ہیں- وہاں ان کی یاد میں تعلیمی ادارے، اسکالرشپس اور تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں، تاکہ ان کی قربانیوں کی روشنی نسل در نسل منتقل ہو۔
آخر میں ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ اس سال 24اکتوبر یوم پیدائش بہادر شاہ ظفر کے موقع پر ملک بھر میں250سالہ جشنِ ولادتِ بہادر شاہ ظفر‘‘ پورے جوش و خروش کے ساتھ آئندہ ایک سال تک یعنی 24اکتوبر 2026تک منایا جائے ، نیز ان کے ساتھ ساتھ ان کے تمام سپہ سالاروں کو بھی ان کے ساتھ یاد کیا جائے— تاکہ آنے والی نسلیں یہ جان سکیں کہ ہماری آزادی کی پہلی صدا ایک عظیم و بہادر بادشاہ کے لبوں سے اٹھی تھی، جس نے قوم کو حوصلہ دیا، اور غلامی کے اندھیروں میں آزادی کا سورج جگایا۔