رائسین، 10 اکتوبر: جمعیۃ علماء کا چوتھا جلسہ ضلع رائسین کے بیگم گنج واقع جامع مسجد میں دیوبند، اتر پردیش سے تشریف لائے مولانا محمد سلمان بجنوری کی صدارت میں ہوا۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی صدر مولانا احمد خان اور ضلع صدر قاضی سید ظہیر الدین نے شرکت کی۔ آنے والے تمام علمائے کرام کا کرشی اپج منڈی کے قریب استقبال کیا گیا۔ نوجوانوں نے انہیں بائیک ریلی کے ساتھ جامع مسجد تک پہنچایا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔اجلاس کا آغاز مولانا زید زلفی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری شعیب خان نے نعت شریف پیش کی۔ مولانا نذر محمد قاسمی نے اپنی افتتاحی تقریر میں احترام، عقیدت اور محبت کے بارے میں تفصیل سے بات کی اور اپنی زندگی میں تعلیمات مصطفی، اطاعت رسول اور احکام الٰہی پر عمل کرنے کے لیے علمائے حق سے جڑنے کی اپیل کی۔شوریٰ کمیٹی کے رکن حاجی چاند میاں ایڈووکیٹ نے علامہ اقبال کے اشعار پیش کئے۔ مولانا صمد خان ندوی نے اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے جمعیت کی دو سالہ خدمات کو پیش کیا۔
جمعیۃ علماء کے ریاستی صدر مولانا احمد خان نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات ختم کریں اور ایک امت بن کر رہیں اور آنے والے حالات کا مقابلہ کریں، انصاف کی پاسداری کریں، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، چاہے ہندو یا عیسائی بھائیوں پر ظلم ہو رہا ہو، ظالم کی مخالفت کریں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، اپنی شادی اور جائیداد کے مسائل علمائے کرام کی رہنمائی میں حل کریں۔ انہوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے بنائے ہوئے آئین پر عمل کرتے ہوئے قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی زندگی بسر کرنے کا مشورہ دیا۔