(ایس ایم حسین )
عید الفطر کو میٹھی عید بھی کہتے ہیں، عید کے دن نماز کے لئے عیدگاہ جانے سے پہلے شیر خرما کھایا جاتا ہے ، جسے طرح طرح کے ڈرائے فروٹ کو بھگا کر بنایا جاتا ہے۔ شیر خرماکے ساتھ ابلی ہوئی سوئیاں کھائی جاتی ہیں ، پہلے امّی ہاتھ سے گھر پرسوئیاں بناتی تھیں، عید کے دنوں میںہر مہمان کو بھی سوئیاں کھلائی جاتی ہیں ، جسے لوگ اپنی حیثیت کے حساب سے بناتے ہیں ،سستی سے سستی ابال کر بنائی جاتی ہیں ، جس میں تھوڑا سا دودھ و شکر ڈالنے پر ایک کمپلیٹ ڈیزرٹ ہو جاتا ہے ۔ ابلی ہوئی فائدہ مند سوئیوں میں طرح طرح کے ڈرائے فروٹ (شیر خرما) ملا کر رچ سے رچ بھی کیا جاتا ہے ۔انہی سوئیوں کی ایک غلط اور نقصان دہ شکل آج کل فینیوں کے طور پر مل رہی ہیں۔ ماہِ رمضان میں بھوپال میں روزانہ فینی کی کھپت 250ٹن ہے، یعنی ایک دن میں پانچ کروڑ کا کاروبار ۔ سوئیوں کو دیکھیں تو اس میں آٹا، میداکے علاوہ کچھ ہیں ، جبکہ فینی میں اس کے اوپر نقصان دہ گھی لپٹا ہوتا ہے ، یعنی سمجھ نہیں ،سمجھداری کی کمی ہے ۔ہم لوگوں کو چاہئے کہ پرانی روایت اور تہذیب کو نہ بھولیں ۔جیسے جیسے ہم بڑے ہوئے سمجھ آیا کہ عید نئے کپڑے ، کھانے پینے تک محدود نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد آپسی بھائی چارہ اور دوسروں کی مدد جیسے کاموںکو بڑھاوا دینا ہے۔
ستائیسویں کی شب جو تیری یدید ہوگئی
اب چاند ہو کہ نہ ہو میری تو عید ہوگئی