نئی دہلی:12؍مئی:(پریس ریلیز) معروف مفکر و دانشور پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ پرستانہ عزائم پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آسام، بنگال میں جس طرح الیکشن میں ایک مخصوص طبقے کو فتح حاصل ہوئی ہے اور اس کے بعد اس کے نامزد وزرائے اعلیٰ نے جس طرح کے بیانات دیے ہیں وہ ہمارے دستور اور ہندوستانی مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ کا یہ بیان کہ وہ صرف ہندوؤں کا ہی کام کریں گے، مسلمانوں کا نہیں،اسی طرح پچھلے دنوں آسام اور اتر پردیش کے وزرائے اعلیٰ نے جس طرح کی زبان مسلمانوں کے خلاف استعمال کی ہے اور جس طرح کچھ ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر کا استعمال ہوا ہے وہ انتہائی خوف ناک اور خطرناک سمت میں ملک کو لے جانے کی کوششوں کا غماز ہے۔ پروفیسر اختر الواسع نے وزیر اعظم اور آر ایس ایس کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کی ہے کہ اس ملک میں سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا پریاس اور سب کا وشواس اس وقت تک صحیح معنوں میں اپنا مثبت اثر نہیں دکھا سکتے اور ہندوستان وِکسِت نہیں ہو سکتا جب تک سب کے ساتھ یکساں اور منصفانہ قول و عمل کا مظاہرہ نہیں ہوتا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ الیکشن میں کسی کو بھی ووٹ دینا شہریوں کی صواب دید پر منحصر ہے لیکن الیکشن کے بعد کسی کے ساتھ بھی کوئی تفریق مناسب اور جائز نہیں ہے اور یہ جمہوری عمل کے خلاف ہے۔
پروفیسر واسع نے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات مسلمانوں کو بھڑکانے اور خواہ مخواہ مشتعل کرنے کی غیر مناسب کوشش ہےاس لیے اس پر روک لگنی چاہیے۔









