لکھنو23جولائی:اتر پردیش کے بدایوں ضلع میں اس وقت ایک غیرمعمولی واقعہ پیش آیا جب ایک آوارہ سانڈ اچانک اجھانی کوتوالی تھانے میں گھس آیا۔ پہلے تو سب نے سمجھا کہ وہ کچھ دیر احاطے میں گھومے گا اور پھر باہر نکل جائے گا لیکن جلد ہی سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ حیرت کا جھٹکا تب لگا جب وہ وزنی اور طاقتور سانڈ سیڑھیاں چڑھتا ہوا براہِ راست تھانے کی تیسری منزل تک جا پہنچا۔ اس منظر نے تھانے میں موجود پولیس اہلکاروں اور شکایت درج کرانے آئے عام لوگوں کو بوکھلا کر رکھ دیا۔ تین منزلہ عمارت میں سانڈ کی موجودگی سے تھانے کا ماحول افرا تفری میں بدل گیا۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر دوڑنے لگے اور کچھ افراد نے باہر نکل کر خود کو محفوظ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی میونسپلٹی اور محکمہ حیوانات کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ کئی افراد پر مشتمل ٹیم نے ریسکیو آپریشن شروع کیا لیکن چونکہ سانڈ تیسری منزل پر تھا، اس لیے یہ ایک مشکل ترین مہم ثابت ہوئی۔ سانڈ کی نقل و حرکت اور ممکنہ خطرے کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے بے ہوش کر کے نیچے اتارا جائے تاکہ کسی کو چوٹ نہ لگے اور جانور کو بھی نقصان نہ ہو۔ ویٹرنری ڈاکٹرز نے سانڈ کو ٹرینکویلائزر یعنی بے ہوشی کا انجکشن دیا، جس کے کچھ دیر بعد وہ آہستہ آہستہ نیم بے ہوش ہو گیا۔
پھر رسیوں کی مدد سے درجنوں لوگوں نے مل کر اسے احتیاط سے نیچے اتارا۔ اس پورے عمل میں تقریباً تین گھنٹے لگے۔ سانڈ کو نیچے لانے کے دوران اسے کچھ معمولی چوٹیں آئیں، تاہم جانوروں کے ماہرین نے یقین دلایا کہ وہ زخم سنگین نہیں اور سانڈ جلد صحت یاب ہو جائے گا۔