نئی دہلی 20جولائی: پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کے متعلق راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کئی اہم ایشوز پر اپنی بے باک رائے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس صرف سیاسی الزامات کا پلیٹ فارم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عوام کی تکلیف، ملک کی عزت اور بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کے بارے میں سنجیدہ اور ایماندارانہ بحث بھی ہونی چاہیے۔ منوج جھا نے واضح کیا کہ پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی تکلیف کو ہم نہیں بھول سکتے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے بعد ہندوستان کی سفارتی پوزیشن پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ صرف کسی خاص پارٹی پر حملہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ملک کے وقار اور سیکورٹی کا معاملہ ہے۔ اس پر کھل کر، منصفانہ اور سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ آر جے ڈی لیڈر سے جب نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ کے اس بیان کے متعلق سوال کیا گیا جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہندوستان سے متعلق بیانات پر ردعمل ظاہر کیا تھا۔ اس پر منوج جھا نے کہا نائب صدر جمہوریہ نے صحیح کہا کہ ہندوستان کی ایک منفرد شناخت رہی ہے۔ آج ہم مضبوط ہیں، لیکن آزادی کے فوراً بعد بھی ہم نے نوآبادیاتی راج سے آزاد ہونے والے ممالک کی قیادت کی تھی۔ ہندوستان کبھی بھی کسی عالمی طاقت کے سامنے نہیں جھکا۔ آج بھی اگر امریکہ جیسے ملک کے صدر ہندوستان کے متعلق اس طرح کے بے بنیاد بیان دیں تو پارلیمنٹ کو ایک آواز میں جواب دینا چاہیے ’مائنڈ یور بزنس‘۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہمارے جواب ذرائع کے حوالے سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے براہ راست اور واضح طور پر آنے چاہیے۔








