کولکتہ، 15 دسمبر (یو این آئی) مغربی بنگال میں قائدِ حزبِ اختلاف سویندو ادھیکاری نے پیر کے روز کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اس جانچ کمیٹی کے اختیارات اور اہلیت کو چیلنج کیا ہے جو گزشتہ ہفتے لیونل میسی کی تقریب کے دوران یووا بهارتی کریڑانگن میں پیش آنے والی ہنگامہ آرائی کے واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔
ہائی کورٹ میں مجموعی طور پر دو مفاد عامہ کی عرضیاں (پی آئی ایل) دائر کی گئیں، جن میں ممتا بنرجی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔عرضی گزاروں کا موقف ہے کہ ریاستی حکومت کے ذریعے تشکیل دی گئی یہ کمیٹی ایک غیر جانب دار اور مؤثر جانچ کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتی، لہٰذا شفاف تفتیش کے لیے ایک علیحدہ اور آزاد کمیٹی کی تشکیل ناگزیر ہے۔عدالت کی ڈویژن بینچ اس معاملے کی سماعت رواں ہفتے کے اواخر میں کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے اس جانچ کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ جج جسٹس اسیم کمار رے کو سونپی ہے، جبکہ چیف سکریٹری منوج پنت اور ہوم سیکریٹری نندنی چکرورتی اس کے ارکان میں شامل ہیں۔سویندو ادھیکاری نے عدالت کی توجہ کمیٹی کی تشکیل اور اختیارات کی جانب مبذول کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسی حکومت کے اعلیٰ افسران کے ذریعے کی جانے والی جانچ عوامی اعتماد قائم کرنے میں ناکام رہے گی۔ انہوں نے ہائی کورٹ کی براہِ راست نگرانی میں جانچ کا مطالبہ کیا۔سینئر وکیل سبیاسچی چٹوپادھیائے نے علیحدہ طور پر قائم مقام چیف جسٹس سُجوئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بینچ کے سامنے معاملہ پیش کرتے ہوئے اس مؤقف کو دہرایا کہ ریاستی سطح پر قائم کمیٹی آزادانہ جانچ کا اختیار نہیں رکھتی۔
دونوں عرضیوں میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خود ایک علیحدہ تحقیقاتی پینل تشکیل دے۔ ڈویژن بینچ نے پی آئی ایل کو منظور کرتے ہوئے تفصیلی سماعت کی اجازت دے دی ہے۔اسی دوران مینک گھوشال کی جانب سے ایک تیسری عرضی بھی دائر کی گئی، جس میں واقعے کی عدالتی نگرانی میں تفتیش کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی گزار نے شائقین کو ٹکٹ کی رقم واپس کرنے، وسیع پیمانے پر بدنظمی اور ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔انہوں نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے تحقیقات کرانے کی بھی اپیل کی، جبکہ اسٹیڈیم کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے اور اس کی لاگت منتظمین سے وصول کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ قانونی پیش رفت اس غیر معمولی افراتفری کے بعد سامنے آئی ہے جو ہفتے کے روز لیونل میسی کی آمد کے دوران یووا بهارتی کریرانگن میں دیکھنے میں آئی۔ ہزاروں شائقین، جن میں سے بیشتر نے مہنگے ٹکٹ خریدے تھے، ارجنٹینا کے فٹبال اسٹار کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں جمع ہوئے تھے۔میسی محض سولہ منٹ تک میدان میں موجود رہے، جس کے بعد بڑھتی ہوئی بدامنی کے پیشِ نظر سکیورٹی اہلکار انہیں وہاں سے لے گئے۔
شائقین کا الزام تھا کہ گیلریوں سے میسی ایک لمحے کے لیے بھی دکھائی نہیں دیے۔
بعد ازاں غصے سے بھرے تماشائیوں نے اسٹیڈیم کے مختلف حصوں میں توڑ پھوڑ کی، میدان میں بوتلیں پھینکیں اور کرسیاں توڑ ڈالیں۔ حالات اس قدر خراب ہو گئے کہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، جو تقریب میں شرکت کے لیے پہنچنے والی تھیں، کو اسٹیڈیم میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹنا پڑا۔
بعد میں وزیراعلیٰ نے میسی اور شائقین سے معذرت کرتے ہوئے انتظامی ناکامی کا اعتراف کیا۔ریاستی حکومت کی جانب سے قائم کردہ جانچ کمیٹی کے ارکان نے اتوار کی صبح یووا بهارتی کریرانگن کا دورہ کیا، مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور نقصان والے مقامات کی ویڈیو گرافی کی۔ کمیٹی نے اسٹیڈیم کے اندر ایک طویل اجلاس بھی منعقد کیا۔دورے کے بعد جسٹس اسیم کمار رے نے مختصر طور پر میڈیا سے بات کی، تاہم جانچ کی سمت یا پیش رفت پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ہائی کورٹ میں پی آئی ایل کی جلد سماعت کے پیشِ نظر اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ عدالت ریاستی حکومت کے ردِعمل کا کس طرح جائزہ لیتی ہے، جبکہ ایک آزاد اور عدالتی نگرانی میں جانچ کے لیے سیاسی اور قانونی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔









