کھٹمنڈو، 12 ستمبر (یو این آئی) نیپال کی سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کو جمعہ کی رات ملک کی عبوری سربراہ مقرر کیا گیا۔صدر رام چندر پوڈیل نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس تقرری کے ساتھ، پیر کو ملک میں پھوٹا عوامی غصہ اب کم ہونے کی امید ہے۔ اس دوران ہنگامہ ، توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور 350 سے زائد زخمی ہوئے۔جسٹس کارکی نے ایک بار پھر ملک کی پہلی خاتون ایگزیکٹو سربراہ بن کر نیپال کی تاریخ میں نام درج کرلیا۔ جولائی 2016 میں، انہوں نے نیپال کی پہلی خاتون چیف جسٹس بن کر تاریخ رقم کی تھی۔ کے پی شرما اولی کی قیادت والی حکومت کا تختہ الٹنے والے جین زیڈ مشتعل افراد نے کئی دور کی بات چیت کے بعد عبوری حکومت کی قیادت کے لیے ان کے نام پر اتفاق کیا۔ بدھ کے روز، انہیں سوشل میڈیا ڈسکارڈ پر سب سے زیادہ ووٹ ملے، جس سے وہ انقلاب کے بعد کی حکومت کی قیادت کرنے کے لیے سب سے پسندیدہ امیدوار بن گئیں۔
اس کے بعد بھی ان کے نام کے تعلق سے کئی گروہوں میں ناراضگی تھی۔ لیکن جب یہ خبر آئی کہ فوج عبوری سربراہ کے نام پر اتفاق نہ ہونے پر ناراض ہے اور انہوں نے ایمرجنسی لگانے کا مشورہ بھی دے دیا ہے تو حالات تیزی سے جسٹس کارکی کے حق میں بدلنے لگے۔جن لوگوں نے ان کے ساتھ کام کیا ہے وہ کارکی کو بہادر اور اعلیٰ سطح کی ایماندار بتاتے ہیں۔ وہ اپنے سادہ طرز زندگی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ وہ بدعنوانی کے خلاف کافی بے باکی سے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ ان کے دور میں، ان کی بنچ نے سیاستدانوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں تاریخی فیصلے سنائے تھے۔ حالانکہ وہ نیپالی کانگریس کے کوٹے سے عدالت عظمیٰ میں آئی تھی، لیکن ان کے کام کو جاننے والوں کے مطابق، انہوں نے اپنی دیانت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔