نئی دہلی 7جنوری: سپریم کورٹ نے جیل میں بند ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کو چیلنج کرنے والی عرضی پر جمعرات کو سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ عرضی وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے آنگمو کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست میں رکھے جانے کو غیر قانونی اور من مانی قرار دیا گیا ہے۔ بدھ کے روز جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے سماعت کو ایک دن کے لیے ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاملے پر باضابطہ بحث جمعرات کو کی جائے گی۔ سونم وانگچک کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل عدالت میں پیش ہوئے۔ اس سے قبل اسی معاملے کی سماعت جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاری پر مشتمل بنچ نے کی تھی۔ عرضی میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وانگچک کی حراست نہ صرف آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس میں قانونی تقاضوں اور مناسب طریقۂ کار کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مرکز اور لداخ کی مرکز کے زیر انتظام حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے 24 نومبر کو جواب داخل کرنے کے لیے وقت مانگا تھا، جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کر دی تھی۔









