نئی دہلی20نومبر: سپریم کورٹ کی پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی جانب سے بھیجے گئے آئینی ریفرنس پر بدھ کے روز اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ ریاستی گورنروں کے پاس اسمبلی سے منظور شدہ بلوں کو لامحدود مدت تک روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسا قدم نہ صرف وفاقی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کے کام کاج کو غیر ضروری طور پر معطل بھی کر دیتا ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی والی آئینی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گورنر کا کردار آئینی حدود میں رہ کر ہے، اور ان کے سامنے صرف تین راستے موجود ہیں۔ یا تو وہ بل کو منظوری دے دیں، یا ایک مرتبہ اسے واپس اسمبلی بھیج کر حکومت سے ازسرِنو غور کرنے کو کہیں، یا پھر اگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ بل دستور کی اصل روح سے متصادم ہے تو وہ اسے صدر جمہوریہ کے پاس بھیج سکتے ہیں۔ لیکن بل کو دراز میں رکھ کر لمبے عرصے تک لٹکانا کسی بھی طور منظور نہیں۔ عدالت نے اس دلیل کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ متعینہ مدت کے بعد بل کو از خود منظور شدہ یعنی ڈی مڈ اسینٹ سمجھا جائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہندوستانی دستور میں ایسی کوئی شق موجود نہیں، اور نہ ہی عدالت کو یہ اختیار ہے کہ وہ آرٹیکل 142 کے تحت اس طرح کی کوئی منظوری فراہم کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بل کی منظوری یا اعتراض کا اختیار مکمل طور پر گورنر اور صدر کے دائرہ کار میں آتا ہے، اس میں عدلیہ کا براہِ راست عمل دخل نہیں ہوسکتا۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ گورنر صرف ’ربر اسٹیمپ‘ کا کردار ادا نہیں کرتے، لیکن منتخب حکومت ہی انتظامیہ کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتی ہے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر دو لوگ نہیں بیٹھ سکتے، اس لیے گورنر کو عمومی معاملات میں وزارتی کونسل کی مشاورت ماننا ہی پڑتی ہے۔ تاہم کچھ مخصوص اور غیر معمولی حالات میں وہ محدود دائرے میں اپنا آئینی اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔









