نئی دہلی11اکتوبر: دہلی میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر کے قریب ہونے والے احتجاج سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ نے اتوار کو خصوصی سماعت کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے متعلقہ افسران کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا اور دو دن کے اندر حلف نامہ داخل کر کے جواب دینے کی ہدایت دی۔ عدالت نے 9 اکتوبر کے اپنے حکم کی خلاف ورزی پر پوچھا ہے کہ متعلقہ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ معاملے کی اگلی سماعت کل منگل کو ہوگی۔ سماعت کے دوران پولیس کی کارروائی، مظاہرین اور وکلا کو حراست میں لینے، تشدد، میٹرو اسٹیشنوں پر پابندی، انٹرنیٹ خدمات اور سڑکوں پر بیریکیڈنگ کے معاملات اٹھائے گئے۔ جسٹس جوئے مالیا باگچی نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق کارروائی کے علاوہ کسی کو حراست میں نہیں لیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے دہلی میں میٹرو اور ریل خدمات معمول کے مطابق جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے حکام سے میٹرو اسٹیشنوں کو بند کرنے یا ان میں داخلے اور باہر نکلنے پر پابندی لگانے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کو کہا۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ دہلی میٹرو کے 303 اسٹیشنوں میں سے 45 پر داخلے اور اخراج محدود کیے گئے تھے، جب کہ تمام اسٹیشن ہفتے کی رات 10 بجے تک کھول دیے گئے تھے۔
عدالت نے دہلی میٹرو ریل کارپوریشن سے ان اسٹیشنوں کا نقشہ بھی طلب کیا جہاں پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ اس سے قبل 57 اسٹیشن بند کرنے کی بات سامنے آئی تھی، جس پر عدالت نے وضاحت طلب کی۔ عدالت نے انٹرنیٹ خدمات بلا رکاوٹ جاری رکھنے اور لوگوں کی آمدورفت معمول پر رکھنے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی حکام سے بیریکیڈنگ کا فوری جائزہ لینے کو کہا، تاکہ ٹریفک اور شہریوں کی نقل و حرکت غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے باہر بھارتیہ شہری سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 نافذ ہونے کی اطلاع دینے والا بورڈ بھی فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا، تاکہ وکلا اور عام لوگوں کو عدالت پہنچنے میں دشواری نہ ہو۔









