نئی دہلی 5جنوری: اجمیر شریف درگاہ میں ہندوستانی حکومت کی جانب سے چادر بھیجنے کی روایت کو چیلنج دینے والی عرضی سپریم کورٹ نے خارج کر دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ ’’یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جس کی عدالت میں سماعت کی ضرورت ہو۔‘‘ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کا دروازہ ’وِشو ویدک سناتن سنگھ‘ کے سربراہ جتیندر سنگھ بسین اور ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا نے کھٹکھٹایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’آئینی عہدے پر بیٹھے لوگوں کی جانب سے درگاہ پر چادر چڑھانا حکومتی غیرجانبداری کے اصول کے خلاف ہے۔‘‘ عرضی گزاروں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو صوفی سنت خواجہ معین الدین چشتی کے 814 ویں عرس کے دوران چادر پیش کرنے سے روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سی جے آئی سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ نے اس معاملہ پر سماعت سے انکار کر دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہ یہ ایسا معاملہ نہیں ہے، جس پر عدالت فیصلہ دے۔ ججوں نے یہ بھی کہا کہ ’’چونکہ اس مرتبہ چادر پیش کی جا چکی ہے، اس لیے معاملہ بے معنیٰ ہو چکا ہے۔‘‘ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ اجمیر شریف درگاہ کو ہندو مندر بتانے والا ایک مقدمہ اجمیر کی سول عدالت میں زیر التوا ہے۔ ججوں نے واضح کیا کہ ان کے اس حکم کا اثر اس مقدمہ پر نہیں پڑے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’مقدمہ زیر التوا ہے، اسے آگے بڑھائیے۔ اس حکم کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ اجمیر درگاہ پر وزیر اعظم کی جانب سے چادر پیش کرنے کی روایت طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے۔