بھوپال، 19 اکتوبر (نمائندہ خصوصی) بھوپال ایک حکایتِ لذیذ ہے، اس سے متعلق جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ ابتدا سے ہی یہ شہر علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، ڈاکٹر محمد نعمان خاں بھوپال کے ایک قدیم علمی، ادبی، مذہبی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مجلسِ اقبال کے زیرِ اہتمام منعقدہ خصوصی جلسہ میں بحیثیتِ صدر خطاب کرتے ہوئے پدم شری حکیم سید ظل الرحمٰن، ڈائریکٹر ابنِ سینا اکادمی (علی گڑھ) نے کیے، انھوں نے مزید فرمایا کہ کتاب سخنورانِ بھوپال کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس میں صرف بھوپال کے 44 اہم قدیم و جدید شعرا کا بالتفصیل تذکرہ شامل ہے۔
سید ظل الرحمٰن نے بھوپال کے دو اہم خاندانوں، حکیم سید ضیاء الحسن اور حکیم آشٹہ والے، ان کی علمی، طبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ نعمان خاں کا تعلق حکیم آشٹہ والے خاندان سے ہے، جس میں بڑے پائے کے اطباء، علماء، ادباء اور شعراء شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس تقریب میں پڑھے گئے تمام مضامین اور منظومات نیز تقاریر نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔
سخنورانِ بھوپال کے اجرا اور گفتگو سے قبل تقریب کے آغاز میں مجلسِ اقبال کے صدر اقبال مسعود نے اپنی استقبالیہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج کا جلسہ بھوپال کے افق پر چمکتے ہوئے سب سے تابندہ ستارے کا جشن اس لیے بھی ہے کہ پدم شری سید ظل الرحمٰن صاحب جو اس شہرِ دل پذیر کی ثقافت، ادب اور حکمت اور دانشوری کی شناخت مستحکم کرنے والے ہر اول دستے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اس پروگرام کی صدارت فرما رہے ہیں۔
اقبال مسعود نے مزید کہا کہ ڈاکٹر محمد نعمان خاں کی ادبی حیثیت ایک مضبوط محقق، ناقد، اور تعلیمی فکر میں فعال دانشور کی ہے، اور انھوں نے بھوپال کے اداراتی، تعلیمی اور تحقیقی ماحول کو مستحکم کرنے میں اپنے استاد پروفیسر عبد القوی دسنوی صاحب کے نقشِ قدم پر چلنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
صاحبِ کتاب پروفیسر محمد نعمان خاں نے اس تاریخی اور یادگار موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے دار الاقبال بھوپال کی ادبی قدامت، خدمات اور اہمیت پر بولتے ہوئے فرمایا، بھوپال کے نمائندہ شعراء کے اشعار کے حوالے سے بھوپال کے شعری ورثہ پر روشنی ڈالی اور اس کے شعری ارتقاء اور عصری منظر نامے کو اردو ادب کے عالمی پس منظر میں نمایاں کیا، تقریب کے معزز مہمان ڈاکٹر محمد نعمان خاں نے، آئی سیٹ، آکار اور مجلسِ اقبال کے عہدیداروں کے ساتھ تمام مضمون نگاروں، شعراء کرام، صحافیوں اور سامعین حضرات کا شکریہ ادا کیا،
اس پروقار ادبی تقریب میں حضرات ظفر صہبائی، قاضی ملک نوید، ثروت زیدی، بدر واسطی، عظیم اثر، شمیم حیات اور اشفاق انصر نے خراجِ تحسین کے طور پر قطعات، رباعیات اور منظومات پیش کیں اس موقع پر عارف علی عارف نے جناب کوثر صدیقی کی تخلیق کردہ توشیحی نظم اور بدر واسطی نے ان کی رباعی نذرِ سامعین کی۔
پروفیسر ارجمند بانو افشاں، پروفیسر وسیم افتخار انصاری، ڈاکٹر شبانہ نکہت اور محمود ملک نے بھرپور مقالات پیش کیے جبکہ بدر واسطی نے محمد نعمان خاں کا دلچسپ قلمی خاکہ پیش کرتے ہوئے زبردست داد حاصل کی، پروگرام کی نظامت کے فرائض بھی بدر واسطی نے بہ حسن و خوبی انجام دیے اس پروگرام کے دوران مہمانِ مکرم نے جناب کوثر صدیقی پر تحریر کردہ ایک کتاب کا بھی اجرا کیا گیا بعد ازاں اس شاندار ادبی و تاریخی پروگرام کے اختتام پر شکریہ کے فرائض مظفر اقبال صدیقی نے ادا کیے۔