میلبرن، 27 دسمبر (یو این آئی) انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور سینئر بلے باز جو روٹ نے میلبرن میں باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف تاریخی فتح کے دوران اپنی ٹیم کے حوصلے اور بہادری کی دل کھول کر تعریف کی اور بتایا کہ چوتھے ٹیسٹ سے قبل مشکل حالات میں ٹیم نے کس طرح مؤثر جواب دیا۔ روٹ نے فاکس کرکٹ کو سائیڈ لائن انٹرویو میں کہا کہ ظاہر ہے سیریز ہارنا ہمیشہ بہت مایوس کن ہوتا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے باقی سیریز کے لیے بہت ہمت کا مظاہرہ کیا۔ روٹ آسٹریلیا میں انگلینڈ کے 18 میں سے 17 ٹیسٹ میچ کھیل چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا، ہم پر کافی دباؤ تھا، مگر دو دنوں میں ٹیم نے جس طرح ردِعمل دکھایا وہ شاندار ہے۔ پچ مشکل تھی اور مقابلہ سخت، لیکن ہم نے خود کومقابلے میں شامل کرکے ہر موقع سے فائدہ اٹھایا۔ آج بلے بازی میں دکھائی دینے والی جرات ہی ہماری فتح کی بنیاد بنی۔
روٹ نے مزید کہا کہآپ یہ توقع نہیں کر سکتے کہ آسٹریلیا آپ کو آسانی سے کچھ دے دے گا۔ میں یہاں کئی بار غلط نتائج کا سامنا کر چکا ہوں، اس لیے میں جانتا ہوں کہ کیا توقع رکھنی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ آسٹریلیا اپنے مقامی ماحول میں کھیلنے میں کتنا مضبوط ہے۔ لیکن آج ہم میچ جیتنے میں کامیاب رہے، یہ بہت خوشی کی بات ہے اور امید ہے کہ ہم اس ہفتے اور اگلے ہفتے مزید بہتری لا سکیں گے۔ اسٹوکس نے میچ کے بعد پریزنٹیشن میں کہا کہ اس میچ سے پہلے کے چند دنوں میں ہمارے سامنے کئی چیلنجز آئے۔ ان سب کے باوجود یہاں آ کر جس طرح ہم نے کارکردگی دکھائی، اس کے لیے ضروری تھا کہ ہم مکمل طور پر اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں یعنی ایک مضبوط آسٹریلوی ٹیم کو اس کی اپنی سرزمین پر شکست دینا۔ ہم اس میں کامیاب رہے۔ اس کامیابی کا بڑا کریڈٹ کھلاڑیوں، اسٹاف اور مینجمنٹ کو جاتا ہے جنہوں نے یہ یقینی بنایا کہ لڑکوں کی پوری توجہ کرکٹ پر رہے۔ ڈریسنگ روم میں موجود ہر کھلاڑی پر مجھے بے حد فخر ہے۔روٹ نے ہدف کے تعاقب میں اینکر کا کردار ادا کیا، 38 گیندوں پر 15 رنز بنا کر ایک اینڈ سنبھالے رکھا، جس سے نوجوان بلے بازوں کو رسک لینے کا موقع ملا۔ جب انگلینڈ کو 17 رنز درکار تھے تو وہ ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔
روٹ نے کہا کہ اس وقت تک میں کافی پُراعتماد تھا۔ اس مرحلے پر آؤٹ ہونا مایوس کن تھا۔ آپ وہ کھلاڑی بننا چاہتے ہیں جو ذمہ داری لے کر ٹیم کو جیت سے ہمکنار کرے لیکن سب سے اہم بات میچ جیتنا ہے۔ میں ان تمام لڑکوں پر فخر محسوس کر رہا ہوں، خاص طور پر وہ جو اپنے پہلے دورے پر تھے۔ ان کے لیے یہاں جیت کا تجربہ بہت اہم ہے۔ اب ہمیں اس اعتماد کو اگلے میچ میں لے جانا ہوگا۔









