بھوپال 18نومبر:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے عالمی سطح پر اپنی الگ پہنچان بنائی ہے۔ ملک جدید سائنس سمیت تمام شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اسی سائنسی صلاحیت کے ذریعہ ہندوستان نے اپنے پڑوسی ملک کو سبق سکھایا۔ کووڈوبا کے دوران، پوری دنیا نے ہمارے پتنجلی یوگا شاستر کی پیروی کی اور ہاتھ جوڑ کر نمسکار کرنے کے طریقے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ سمراٹ وکرمادتیہ کے دور میں نورتن کی طرح آج ملک میں وزیر اعظم مسٹرمودی کی رہنمائی میں تمام ہنرمندوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ چاہے مون مشن ہو یا گگنیان پروجیکٹ، وزیر اعظم مسٹرمودی کامیاب ہو یا ناکام ہر قدم پر سائنسدانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی طرح طلباء کے درمیان سائنسی اور اختراعی سوچ کو فروغ دینے کے لیے وزیر اعظم مسٹرمودی کی کوششوں میں ریاستی حکومت بھی ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔ ہندوستانی قدیم گرنتھوںمیں طالباء علم کی چھ خصوصیات بالترتیب: علم، منطق، سائنس، یادداشت، تیاری اور سرگرمی کا ذکر ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ جن کے پاس یہ چھ خوبیاں ہیں ان کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خوبیوں کی بنیاد پر سائنس کی رفتار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ چلڈرنس سائنس نمائش میں آئے طلباء میںمستقبل کے ہندوستان کے وکرم سارا بھائی ، بھابھا صاحب ، کلام صاحب جیسے ٹیلنٹ کی جھلک مل رہی ہے ۔ یہ چلڈرنس سائنسدان ہندوستان کے سائنسی سفر کا ایک نیا باب لکھنے والے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ان خیالات کا اظہار منگل کو 52ویں چلڈرنس سائنس نمائش-2025 کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے شملہ ہلس واقع ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (RIE) میں چراغ جلا کر 52ویںنیشنل چلڈرنش سائنس نمائش کا افتتاح کیا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کے نمائش کے داخلی دروازے پر پہنچنے چلڈرنس سائنسدانوں کے تیار کردہ روبوٹس نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے چلڈرنس نمائش میں طلباء کی جانب سے لگائے گئے سٹالز کا معائنہ کرکے ، چائلڈ سائنسدانوں سے بات چیت کی اورچالڈ سانسدانوں کے تیار کردہ روبوٹس اورتارا منڈل کے ماڈلز کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔
نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مشترکہ زیر اہتمام چھ روزہ نمائش 23 نومبر تک جاری رہے گی۔
رشی منیوں کی حکمت اور اختراعات سے خوشحال ہے ہماری علمی روایات
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ہندوستان کے عالمی گرو بننے میں قیدیمی ہندوستانی سائنسی روایات کا حصہ رہے رشی منیوں کے تعاون کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے رشی منی نے کم سے کم ضروریات کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے سماج کی فلاح وبہبود کیلئے اختراعات کو جنم دیتے تھے۔ ہر ہندوستانی کو اس وراثت پر فخر ہے جورشی منیوںسے ملی ہے۔ اگر ہم ومان شاستر کے بارے میں بات کرتے ہیں تورشی بھاردواج یاد آتے ہیں۔ بھگوان شری رام کے دور میں پشپک ومان دکھائی دیتا ہے ۔ جب ہم صفر کے وجود کو دیکھیں، تو آریہ بھٹ کے بارے میں سوچتے ہیںاور جب ہم سیاروں کی رفتار دیکھتے ہیں تو بھاسکراچاریہ نظر آتے ہیں۔یوگ شاستر کیلئے مہرشی پتنجلی یادآتے ہیں۔ ہندوستانی علمی روایت کو ہر میدان میں رشی منیوں کے علم سے خوشحال ہوئی ہے۔









