بھوپال: 12جون:آج نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میں قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے حاضرین مسجد سے اپنے بصیرت افروز خطاب میں فرمایا کہ اسلامی سال نو فقط کیلنڈر کی ورق گردانی نہیں بلکہ روح کی بیداری کا لمحہ اورایک فکری انقلاب ہے۔ وقت اپنی خاموشی میں بڑی شدت سے سوال کرتا ہے: تم نے پچھلے سال کیا سیکھا؟ کیا کھویا اور کیا پایا؟
قاضی شہر نے فرمایا کہ ہم ایک ایسے سیّال وقت کے مسافر ہیں جو کسی پڑاؤ پر نہیں رکتا نہ کسی کو پیچھے مڑ کر دیکھنے دیتا ہے مگر ان لمحوں میں جب نیا سال ہماری روح کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، ہم پر لازم ہے کہ ہم رکیں اور اپنے باطن میں جھانکیں ۔ وقت نہ بولتا ہے، نہ ٹھہرتا ہے لیکن یہ سب سے بڑا معلم ہے۔ یہ خاموشی سے ہماری سانسوں کو گنتا رہتا ہے اور ہم کبھی بے خبر، کبھی بے پروا زندگی کو گزارنے کے وہم میں خود کو گزار رہے ہوتے ہیں۔ وقت کا یہ بے رحم بہاؤ انسان کو ماضی کی یادوں، حال کی مصروفیات اور مستقبل کے اندیشوں کے درمیان اس طرح الجھا دیتا ہے کہ وہ اصل سوال یعنی ’’میں کون ہوں اور کہاں جا رہا ہوں؟‘‘سے غافل ہو جاتا ہے۔
خود کو وقت کے اس دھارے میں یوں چھوڑ دینا کہ نہ منزل کا پتہ ہو نہ راستے کا شعور، سراسر خسارے کا سودا ہے۔ کیا ہم نے وقت کے دریا میں محض تیرنا سیکھا یا سمتِ نجات کی طرف کوئی پیش قدمی بھی کی؟ میرے بھائیو! ہماری زندگی کا ہر لمحہ دراصل ایک بیج ہے جو یا تو ضیاع کی زمین میں گم ہو جاتا ہے یا فکر و اخلاص کی زمین میں تناور درخت بن کر اگتا ہے۔ اگر ہم آج بھی اپنی سمت کا تعین نہ کریں تو اگلا سال بھی گم گشتہ لمحوں کا قبرستان بن جائے گا جہاں دفن خواب اور ماندہ عزم، صرف ایک افسوسناک نوحہ چھوڑ جاتے ہیں۔
سالِ نو کا آغاز ہمیں اس عظیم موقع کی یاددہانی کراتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا زینہ لمحہ لمحہ چڑھتے ہوئے کہاں پہنچے ہیں؟ کیا ہم نے اس دنیا میں کچھ ایسا کیا ہے جو ہمارے بعد باقی رہے؟ کیا ہم نے کسی مظلوم کے حق میں آواز بلند کی؟ کیا ہم نے اپنے نفس کی اصلاح کی راہ پر ایک قدم بھی اٹھایا؟ یہ سوالات فقط احساس کی چنگاریاں نہیں یہ ہماری حیات کی سمت طے کرنے والے مینارے ہیں۔ ہر شعور یافتہ انسان کو لازماً اپنے وجود کی غایت پر غور کرنا چاہئے ورنہ وہ ایک چلتی پھرتی جسمانی مشین بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی کا مقصد طے نہ کرے تو وہ خود اپنی روح کے ساتھ ظلم کر رہا ہے۔
جمہوری سیاست میں پارٹیاں انتخابات سے قبل منشور تیار کرتی ہیں۔ یہ منشور نہ صرف عوام کو متوجہ کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے بلکہ ان کے عزم اور اہداف کا اعلان بھی۔ اگر ایک سیاسی جماعت بغیر کسی منشور کے میدان میں اترے تو عوام اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے تو پھر ہم، جو اپنی زندگی کے انتخاب میں آزاد ہیں، کیوں نہ ایک منشورِ حیات ترتیب دیں؟ کیوں نہ ہم یہ طے کریں کہ ہمیں کن عادتوں سے نجات پانی ہے؟ کن اخلاقی صفات کو اپنانا ہے؟ کس علمی سفر کا آغاز کرنا ہے؟ کن افراد کی صحبت سے جڑنا ہے؟ کس مقصد کیلئے زندہ رہنا ہے؟
منصوبہ بندی، درحقیقت زندگی کو زندگی بنانے کا ہنر ہے۔ جس طرح کوئی سیاسی جماعت بغیر منشور کے عوام کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتی، ویسے ہی انسان بھی بغیر نصب العین کے اپنی ذات کا راہی نہیں بن سکتا۔ قومیں منشور کے ساتھ اٹھتی ہیں اور فرد محاسبے سے سنورتا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے دل کی عدالت میں پچھلے سال کے اعمال کو پیش کریں۔ ہم نے کتنی بار رب کو پکارا اور کتنی بار دنیا کی آواز پر لبیک کہا؟ کتنی بار ہم نفس کے فریب میں آئے اور کتنی بار دل نے تقویٰ کی راہ پر قدم بڑھایا؟
مگر ماضی صرف ماتم کا نام نہیں۔ یہ ایک معلم بھی ہے، جو ہمیں سبق سکھاتا ہے کہ زخم بھی نعمت ہیں اگر ان سے ہم شعور کی آنکھ کھول سکیں۔ وہ تلخ یادیں، وہ گم کردہ راہیں، وہ کھوئے ہوئے لمحے، سب ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم اب بھی نئے سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اس سال کو ہم ایک روحانی بعثت کا آغاز بنائیں۔ اپنے اندر کے بتوں کو توڑیں،غرور، حسد، غفلت، حرص اور اپنے دل کو ایک عبادت گاہ میں تبدیل کر دیں۔ ہم ان لوگوں سے قریب ہوں جو روشنی بانٹتے ہیں، جن کے وجود سے ہمیں اللہ یاد آتا ہے، جن کے ساتھ بیٹھ کر انسان خود کو بہتر بنانے پر آمادہ ہوتا ہے۔
یہ سال ہماری روح کی تجدید، عقل کی تطہیر اور دل کی تعمیر کا سال بنے۔ علم ہمارا رہنما ہو، عبادت ہمارا زادِ راہ، خدمتِ خلق ہماری منزل اور نیک صحبت ہمارا ہمسفر۔ زندگی ایک نعمت ہے مگر بغیر شعور کے یہ نعمت ایک آزمائش بن جاتی ہے۔ یہ سوال ہر شعور رکھنے والے انسان کو خود سے پوچھنا چاہئے “اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو کیا میں وہی رہوں گا؟ یا میری آنکھ میں وہ روشنی ہوگی جو توبہ کی ہے؟ میرے ہاتھ میں وہ طاقت ہوگی جو خدمت کی ہے؟ اور میرے دل میں وہ یقین ہوگا جو معرفت کی کوکھ سے جنم لیتا ہے؟’’ کیونکہ محض وقت کا گزر جانا زندگی نہیں بلکہ وقت میں جینا بامقصد جینا اور فکر کے ساتھ جینا ہی حقیقی زندگی ہے۔
آئیے! ہم اس سال کی پہلی ساعت کو ایک عہد بنائیں۔ وہ عہد جو صرف الفاظ میں نہ ہوبلکہ اعمال میں نظر آئے جو صرف دعا نہ ہو بلکہ نیت، کوشش اور قربانی سے مزین ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلے سال، اسی دن، ہم پھر یہی سوال کریں: “کیا ہم نے واقعی کچھ بدلا؟ یا ہم وقت کے تیز بہاؤ میں اپنے آپ کو ایک بار پھر کھو بیٹھے؟