لکھنو 22ستمبر: ایس پی لیڈر اعظم خان کے حوالے سے اہم اپڈیٹ سامنے آرہی ہے ۔ اعظم خان کو کل (منگل) سیتا پور جیل سے رہا کیا جائے گا۔ ایس پی لیڈر کی رہائی منگل کی صبح 7 بجے کے قریب ہوگی۔ رہائی کے وارنٹ میں تاخیر کی وجہ سے آج رہائی میں تاخیر ہوئی۔ جیل انتظامیہ اعظم خان کی رہائی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے بی ایس پی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم خان 9 اکتوبر کو لکھنؤ میں بی ایس پی کے ایک پروگرام میں شرکت کریں گے، جس کے دوران وہ ایس پی چھوڑ کر بی ایس پی میں شامل ہو جائیں گے۔ اعظم 23 ماہ سے سیتا پور جیل میں بند ہیں۔ ان کے خلاف 100 کے قریب مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے کئی مقدمات میں انہیں سنا ہوچکی ہے، جب کہ دیگر میں بری ہو چکے ہیں۔ انہیں پہلے ہی 52 مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے۔ ہائی کورٹ نے انہیں ڈونگر پور کیس میں مقامی عدالت کی طرف سے سنائی گئی 10 سال کی سزا سے راحت دیتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی ہے۔ 2017 میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، 80 سے زیادہ نئے مقدمات درج کیے گئے ہیں، جو بنیادی طور پر مولانا علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق زمین کے تنازعات پر مبنی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ یہ مقدمات سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں، جبکہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ قانونی کارروائی ہے۔
کشی نگر:والد کےقتل کے الزام میں بیٹا گرفتار
کشی نگر: 22 ستمبر (یو این آئی)اتر پردیش کے ضلع کشی نگر کے تھانہ کسیا علاقے میں پولیس نے ایک ایسے بیٹے کو گرفتار کیا ہے جس نے اپنے والد کو دوسری شادی کرنے پر قتل کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق پیر کو تھانہ کسیا پولیس نے مقدمہ نمبر 0605/2025 دفعہ 103(1)، 109 بی این ایس کے تحت ملزم ستندر یادو ولد اِشوَر یادو ساکن چِرگَوڑا، تھانہ کسیا کو گرفتار کیاہے۔

تھانہ کسیا کے انچارج پروندَر رائے نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ اس کے والد دوسری شادی کرنا چاہتے تھے جس کی اس نے بارہا مخالفت کی، لیکن والد نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شادی کر لی۔ اس پر مشتعل ہو کر ملزم نے گزشتہ شب (21/22 ستمبر) اپنے والد اور سوتیلی ماں پر چاقو اور لوہے کی راڈ سے حملہ کردیا، جس سے دونوں شدید زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد اس نے اپنے والد کو چھت سے نیچے پھینک دیا، جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

پولیس کے مطابق یہ سنگین واردات باپ بیٹے کے درمیان گھریلو تنازع اور زمین کی تقسیم کے جھگڑے کے سبب پیش آئی