امپھال22جنوری: منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ طویل عرصہ سے بدامنی کا شکار منی پور میں اغوا کیے گئے میتیئی سماج کے ایک نوجوان کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ چوراچندپور ضلع میں مشتبہ کوکی شدت پسندوں کی جانب سے نوجوان کو اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ حالاکہ مقتول نوجوان کی بیوی کو زندہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ایم رشی کانت سنگھ کو بدھ کے روز تُوئبانگ علاقہ میں ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا، اور پھر نٹجانگ گاؤں کے قریب اسے گولی مار دی گئی۔ مشتبہ اغوا کار یونائٹڈ کوکی نیشنل آرمی (یو این کے اے) کے اراکین بتائے جا رہے ہیں۔ یہ تنظیم سسپنشن آف آپریشنز (ایس او ایس) معاہدے پر دستخط کرنے والے گروپ میں شامل نہیں ہے۔ امن قائم کرنے کے لیے سسپنشن آف آپریشنز معاہدہ مرکزی حکومت، منی پور حکومت اور درجنوں ’کوکی-زو‘ شدت پسند گروہوں کے درمیان کیا گیا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق میتیئی طبقہ سے تعلق رکھنے واے رشی کانت سنگھ، جو کاکچنگ ضلع کے کاکچنگ خُناؤ کا رہنے والا تھا، نے چوراچندپور کی چنگنو ہاؤکپ سے شادی کی تھی۔ بعد ازاں اس نے ایک قبائلی نام ’گِنمن تھانگ‘ اختیار کر لیا تھا۔ وہ گزشتہ دنوں 19 جنوری کو نیپال سے چوراچندپور واپس لوٹے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کچھ مقامی گروہوں نے انہیں اپنی کوکی بیوی کے ساتھ رہنے کی اجازت دی تھی۔