نئی دہلی28ستمبر: سابق مرکزی وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملہ پر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ ملک بھر میں کانگریس کارکنوں نے ’ووٹ چوری‘ اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تمل ناڈو کے شیواگنگا ضلع کے کارائیکوڈی میں بھی احتجاج کیا گیا، جہاں لوگوں میں الیکشن کمیشن کے تئیں شدید ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے مختلف مراحل کے دوران 13 کروڑ 30 لاکھ بالغ شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں۔ چدمبرم کے مطابق، ایس آئی آر کے پہلے مرحلے میں 8.21 کروڑ بالغ آبادی میں سے 65.1 لاکھ، دوسرے مرحلے میں 51.60 کروڑ میں سے 6.5 کروڑ اور تیسرے مرحلے میں 35.5 کروڑ میں سے 6.1 کروڑ نام حذف کیے گئے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 14 فیصد بالغ آبادی اس عمل سے متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد دائر کی گئی اپیلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 82,782 اپیلوں میں سے 75,433 کو منظور کیا گیا، یعنی تقریباً 91 فیصد اپیلوں میں نام دوبارہ ووٹر فہرست میں شامل کیے گئے۔ چدمبرم نے کہا کہ اس تجربے کی روشنی میں اگر حذف کیے گئے افراد ٹریبونل سے رجوع کرتے ہیں تو بڑی تعداد میں نام بحال ہونے کا امکان ہے۔چدمبرم نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کا عمل اب دھیرے دھیرے ایک ’دھوکہ‘ کے طور پر بے نقاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے فوری طور پر معطل کیا جانا چاہیے اور ووٹر فہرست سے نام حذف ہونے کے باعث متاثر ہونے والے افراد کو انصاف دلانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ اس سے قبل بھی وہ ملک بھر میں ایس آئی آر معطل کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔









