سر سید احمد خان، ایک ایسا نام جو برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا گیا ہے۔ وہ نہ صرف ایک مصلح، معلم اور مدبر تھے بلکہ انہوں نے وہ بنیاد رکھی جس پر جدید مسلم معاشرہ استوار ہوا۔۷ ا؍کتوبر کو ان کی پیدائش کی تقریبات بڑے جوش و خروش سے منائی جاتی ہیں، ہر علیگ فخر سے اپنی نسبت کا اظہار کرتا ہے، سیمینارز ہوتے ہیں، تقاریر کی جاتی ہیں،پُر لطف دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور علیگ برادری کا جوش و جذبہ دیکھنے قابل ہوتا ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی میں تمام طبقات کی یکساں شرکت ضروری ہوتی ہے، مگر جب کسی مخصوص طبقے کو مسلسل نظر انداز کیا جائے، تو وہ سماجی، تعلیمی، اور اقتصادی لحاظ سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں پسماندہ طبقات اور خاص طور پر مسلمانوں کو پچھلے کچھ سالوں سے مختلف شعبوں میں نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی ترقی رک گئی ہے۔
مسلمانوں کی پسماندگی کی وجوہات میں تعلیمی عدم مساواتم مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان پڑھتا لکھتا نہیں یہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے بلکہ مسلمانوں کو پڑھنے لکھنے نہیں دیا گیا اور اب بھی معیاری تعلیمی اداروں کی کمی، سرکاری اسکولوں کی خراب حالت، اور غربت کے باعث تعلیمی مواقع میں کمی مسلمانوں کو پیچھے دھکیلتی ہے۔ سرکاری و نجی شعبوں میں مسلمانوں کو روزگار کے مواقع کم فراہم کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مالی طور پر مستحکم نہیں ہو پاتے۔ کاروباری مواقع اور قرضوں کی عدم دستیابی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی بھی انتہائی کمزور ہے، جس کی وجہ سے ان کے مسائل پالیسی سازی میں کم اہمیت رکھتے ہیں۔ سیاسی اثر و رسوخ نہ ہونے کے باعث ان کے مسائل اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے درمیان خود بھی سماجی اور ثقافتی سطح پر امتیازی سلوک کا مسئلہ ہے۔ ملک کی گودی میڈیا میں مسلمانوں کی غلط تصویر کشی کی جاتی ہے یا کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر ان کے خلاف تعصب بڑھ رہا ہے اور ان کے حقوق مزید متاثر ہورہے ہیں۔
اگر ہم ماضی کے جھرونکوں میں جھانک کر دیکھے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ سر سید احمد نے کس طرح اپنی پوری زندگی تعلیمی و سماجی ترقی کے لیے وقف کر دی۔ علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کو جدید تعلیم کی طرف راغب کیا، ان کے اندر سوچنے اور سمجھنے کی نئی روشنی پیدا کی۔ وہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بنا رہے تھے بلکہ ایک ذہنی انقلاب برپا کر رہے تھے، ایک ایسا انقلاب جس نے مسلمانوں کو زوال سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا علیگ برادری نے اپنے محسن کو وہ عزت دی جو ان کے شایانِ شان تھی؟ سر سید کی تعلیمات کا اصل جوہر ان کی فکر اور ان کے اصول تھے، لیکن ہم نے انہیں صرف ایک تقریب اور جشن کی حد تک محدود کر دیا ہے۔
اسلئے کہ سر سید کی تعلیمی تحریک کو آگے بڑھانے میں علیگس کا کردار نہایت ہی اہم ہے۔آج ہماری تمام قدیم نشانیوں کو مٹایا جا رہا ہے جس میں سرکار بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ اُردو زبان کی اشاعت و فروغ کے لئے بنے اداروں کو مالی مدد نہ ملنے کی وجہ سے وہ بند ہونے کی کگار پر ہیں یا بند ہو چکے ہیں۔ اُردو اساتذہ کی تقرریاں نہیں ہو رہی ہیں۔ایسے حالات میں علیگس کو آج کے دن بھی سر سید کو یاد کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لئے بھی آواز بلند کرنا چاہئے۔
سر سید احمد خان کی زندگی کا خلاصہ تھا تعلیم و تعلم، آج ہم سب عزم کریں کہ سر سید کے مشن کو کس طرح آگے بڑھایا جائے۔تعلیم ، تجارت، روزگار/ہنر، تجویز و تعاون کی بات ہونا چاہئے۔ اگر حکومت کی بات کی جائے تو یقینا نتیجہ صفر ہی برآرہا ہے ۔ہر جگہ کچھ ایسے منووادی اور پونجی وادی عناصر ہے جن کی وجہ سے اقلیتوں کی حالت بد سے بدتر ہو تی جار ہی ہے۔ چاہے یوپی ہو ، ایم پی ہو ،چھتیس گڑھ ہو، آسام ہو ، اتراکھنڈ ہو یا کوئی بھی صوبہ ہو ہر جگہ اقلیتی اداروں پر زیادتی کی جارہی ہے۔قانون بنا کر مسلمانوں کو دوئم درجہ کا باشندہ ثابت کیا جارہا ہے۔ یوپی اور دیگر کئی صوبوں میں مدرسہ بورڈ کو بند کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اور بھی یونیورسٹیاں جیسے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ،میگھالیہ یونیورسٹی ، مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور وغیرہ کو بھی پریشان و ہراساں کیا جارہا ہے وہاں کا تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے۔
اسی پیارے ملک میں آئے دن اقلیتوں کو ستانے کے لئے نت نئے قوانین جیسے وقف بل، سی اے اے ، این پی آر، یو اے پی اے وغیرہ نافذ کئے جارہے ہیں،الغرض یہ کہ جب تک تعلیم عام نہیں ہوگی عام آدمی اسی طرح شر پسند عناصر کے ہاتھوں دبا کچلا رہے گا ۔اسلئے ضروری ہے کہ اپنے دفاع کی فکر ہم سب کو کرنا چاہئے اور اس کے لئے لائحہ عمل بھی تیار کرنا چاہئے۔
اسی لئے سر سید کے مشن کی اہمیت آج کے حالات میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ کیوں نہ ہر صوبے میں ایک یونیورسٹی علی گڑھ کی طرح بنائی جائے ۔تعلیم عام ہو ،سب پڑھے سب بڑھے، جس سے ملک و ملت کا نفع ہو۔ملک کی غربت دور کرنے کا واحد راستہ ہی تعلیم ہے جسے آج ہم سب کو عام کرنے کی ضرورت ہے یہی سر سید کا مشن تھا اور حقیقی معنوں میں انہیں خراج عقیدت بھی تبھی ہوگی۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جب کہ مساجد آباد ہیں ان مساجد کو بھی سر سید کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے نیز تعلیم و تعلم کے لئے استعمال کیا جائے تو ایک بڑے طبقے کو بڑا نفع ہوگا۔اخیر میں ہم تمام باشندگان ہند اور تمام علیگ برادری کی طرف سے سر سید کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔









