میرٹھ22/ اکتوبر(پریس ریلیز)تعلیم کو کبھی زہر کا رنگ نہ دیا جائے، تعلیم انسان کو خوبصورت انسان بنا تی ہے۔ طلبہ کو ایک سے زیادہ زبانیں آ نی چاہئیں تبھی وہ اچھا اور بڑا ستاد مقرر بنے گا۔استاد کو زیادہ سے زیادہ کتابوں سے استفادہ کرنا چاہئے۔ سر سید جدید ہندوستان کے معماروں میں شامل ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار پروفیسر ابو سفیان اصلاحی نےشعبۂ اردو میں منعقد سہ روزہ جشن سر سید تقریبات کے اختتامی اجلاس میںکیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سر سید کا گھر علم سے آراستہ تھا۔ انسان کا سب سے اچھا دوست کتابیں ہوتی ہیں۔ نفرت کا جواب محبت سے دینا چاہئے۔انسان کی پہچان اس کے کردار سے ہو تی ہے۔اس موقع پرپروفیسر صغیر افرا ہیم نے کہا کہ سر سید کو یاد کرنے کا مقصد طلبہ و اساتذہ کا ان کے خواب کو زندہ رکھنا ہے۔ سر سید کا خواب تھا کہ آنے والی نسل مہذب ہو، اخلاق درست ہوں۔بہتر تعلیم وہ ہے جو طلبہ کی تربیت کرے، اسے انسان بنائے۔
واضح ہو کہ سالہا ئے گذشتہ کی طرح امسال بھی محسن قوم، عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خاں کی یوم پیدا ئش کے مو قع پر سہ روزہ جشن سر سید تقریبات کا اختتام شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یو نیورسٹی،میرٹھ میں ہوا۔ صدارت کے فرائض معروف فیزیشن ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی نے انجام دیے اور مہمانان خصوصی کے بطور پروفیسر ابو سفیان اصلا حی صدر شعبۂ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور پروفیسر صغیر افرا ہیم،سابق صدر شعبۂ اردو،اے ایم یو نے شر کت فرمائی جب کہ مہمانان ذی وقار کے بطور سید انور حسین ،سابق صدر، اے ایم یو یونین، عادل چودھری(سماج وادی لیڈر)شریک ہو ئے۔استقبالیہ کلمات آفاق احمد خاں اور نظامت کے فرائض ڈاکٹرآصف علی نے انجام دیے۔
اس سے قبل اجلاس کا آ غاز شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں ما ئنارٹی ایجو کیشنل سوسائٹی کے اشتراک سے منعقد غزل سرا ئی سے ہوا۔بجے سے سیمینارکےتیسر ے اجلاس کی صدارت پر پرو فیسر ارادھنا گپتا، پروفیسر دنیش کمار، پروفیسرمشتاق صدف، ڈاکٹر ارشد اقبال رو نق افروز رہے۔ مقالہ نگار کے بطور ڈاکٹر چاندنی عباسی،مظفر نگر نے”مفکر قوم سر سید احمد خاں اور تعلیم نسواں“،ڈاکٹر نوید خان،سنبھل نے”سر سید کا تصور تعلیم اور قومی تعلیمی پالیسی2020“ اور شاہ زمن نے”سر سید فکرو عمل کا داعی“ عنوانات سے اپنے مقالات پیش کیے۔اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاپروفیسر دنیش کمار نے کہا کہ سر سید ایک عظیم شخصیت کا نام ہے جنہوں نے تعلیمی میدان میں کار ہائے نمایاں انجام دیے۔ حالا نکہ ان پر کافی تحقیق ہو چکی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں ابھی ان پر مزید تحقیق ہونی چا ہئے۔پروفیسر ارادھنا گپتا نے کہا کہ ہم تہذیب اور تعلیم سے اتنا نہیں سیکھ سکتے جتنا اپنے بزرگوں سے سیکھ سکتے ہیں۔ پروفیسر مشتاق صدف نے کہا کہ سبھی مقالات بہت عمدہ تھے اور سبھی مقالے رسائل میں چھپنے چاہئیں۔ سر سید پر کئی حوالوں سے تنقید بھی ہوئی ہے اور دو قومی نظریے کی مخالفت کی وجہ سے وہ اتحاد کے حامی تھے۔مہا تما گاندھی کے بقول”تعلیم کا پیغمبر تھے سر سید“ شام چار بجے سے ایوارڈ فنکشن کاآغاز منے تلا وت کلام پاک سے ہوا اور نزہت اخترنے نعت پاک نے پیش کی۔ بعد ازاں مہمانوں نے مل کر شمع رو شن کی اور مہمانوں کا پھولوں کے ذریعے استقبال کیا گیا۔اس دوران فر حت اختر نے اپنی خوبصورت آواز میں ایک غزل پیش کر کے سامعین کی خوب داد وصول کی۔اس موقع پر تین ایورڈ تقسیم کیے گئے جن میں سر سید نیشنل ایوارڈ برائے سماجی خدمات جاگرک ناگرک ایسو سی ایشن،میرٹھ اور سر سید نیشنل ایوارڈ برا ئے ادبی خدمات پروفیسر فاروق بخشی ،سابق صدر شعبۂ اردو،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدر آبادکو دیے گئے۔ایوارڈ یافتگان کا تعارف ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور ڈاکٹر الکا وششٹھ نے پیش کیا۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جاگرُک ناگرک ایسوسی ایشن کے صدر راجیش بھارتی نے کہا کہ ہم شعبۂ اردو اور اس کی مشترکہ تنظیموں کے بے حدمشکور ہیں کہ انہوں نے ایک ایسی عظیم شخصیت کے نام پرہماری خدمات کو سراہاجس نے خودسماج کے لیے بہت کچھ کیا۔ہمیں سر سید کو گہرائی سے سمجھنا ہوگا تبھی ہم ان کے خواب کو شرمندہ ٔ تعبیر کر پائیں گے۔









