17 اکتوبر سر سید احمد خان کا یومِ پیدائش ہے۔ یہ دن ہمیں ایک ایسی شخصیت کی یاد دلاتا ہے جس نے اپنے زمانے کے مشکل حالات میں تعلیم، سماجی اصلاح اور فکری بیداری کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔ سر سید کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض ایک تعلیمی ادارے کے بانی نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے مصلح تھے جو قوم کو بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا مقصد صرف تعلیم یافتہ افراد پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایک باشعور، باصلاحیت اور ترقی پسند معاشرے کی تعمیر بھی تھا۔
جنگ آزادی کے بعد بھارتیہ مسلمانوں کو شدید سیاسی، معاشی اور تعلیمی مشکلات کا سامنا تھا۔ سر سید نے حالات کا ماتم کرنے اور ماضی کی عظمت پر اکتفا کرنے کے بجائے مستقبل کی تعمیر کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ جدید علوم، انگریزی زبان، سائنس اور تحقیق سے دور رہ کر نئی دنیا کے تقاضوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے تعلیمی ادارے قائم کیے، سائنٹفک سوسائٹی کے ذریعے جدید علوم کو بھارتیہ زبانوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی اور رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ بھی جاری کیا۔ علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم ہوا، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ یہ محض ایک ادارے کی ترقی کی داستان نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک تحریک اور ایک اجتماعی بیداری کی تاریخ ہے۔
سر سید کا وژن یہ تھا کہ مسلمان جدید تعلیم اور سائنسی علوم میں آگے بڑھیں، اپنی تہذیبی شناخت سے وابستہ رہیں اور ملک و سماج کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔ ان کی فکر کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ تعلیم کے ساتھ سماجی اصلاح اور اخلاقی تربیت ضروری ہے۔ تہذیب الاخلاق کے ذریعے انہوں نے معاشرے میں پھیلی خامیوں، فرسودہ رویّوں اور فکری جمود پر گفتگو کی۔ وہ جانتے تھے کہ قوموں کی ترقی صرف تعلیمی اسناد سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے سوچ میں تبدیلی، کردار کی مضبوطی اور عمل کا جذبہ بھی ضروری ہے۔آج یومِ سر سید مناتے ہوئے ہم تمام علیگس کو یہ سوال خود سے ضرور کرنا چاہیے کہ ہم نے ان کے مشن کو کس حد تک اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا ہے؟۔ کیا ہم نے تعلیم کو واقعی اپنی اولین ترجیح بنایا؟ کیا ہمارے معاشرے کا غریب بچہ بھی معیاری تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھ سکتا ہے؟ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کو سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور روزگار کے بدلتے ہوئے مواقع کے لیے تیار کیا ہے؟ اور کیا ہمارے تعلیمی ادارے صرف امتحان پاس کرانے اور اسناد دینے تک محدود ہیں، یا وہ بچوں میں سوال کرنے، سوچنے، تحقیق کرنے اور معاشرے کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ بھی پیدا کر رہے ہیں؟ یا پھر ہم سب سال میں ایک دن بس جشن منانے کے لئے جمع ہو جاتے ہیں۔۔۔؟
یہ سوالات کسی ایک طبقے یا ادارے کے خلاف نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی ہیں۔ سر سید کا مشن ہمیں مایوسی کے بجائے عمل، شکایت کے بجائے منصوبہ بندی اور انفرادی کامیابی کے بجائے اجتماعی ترقی کی طرف بلاتا ہے۔تعلیم کے میدان میں آج سب سے اہم ضرورت ان بچوں اور خاندانوں کی مدد ہے جو معاشی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ کسی غریب طالب علم کی فیس ادا کرنا، کسی ہونہار بچے کو اسکالرشپ دینا، کسی اسکول میں معیاری تدریس کا انتظام کرنا، لائبریری قائم کرنا یا نوجوانوں کو مسابقتی امتحانات اور روزگار کے لیے رہنمائی فراہم کرنا بظاہر چھوٹے اقدامات ہیں، لیکن یہی کام بڑے سماجی نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اہلِ خیر، تعلیمی ادارے، سماجی تنظیمیں اور باصلاحیت افراد اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور منظم انداز میں آگے آئیں۔زبان و ثقافت کے میدان میں بھی چیلنجز کم نہیں ہیں۔ اردو، عربی اور فارسی جیسی زبانوں کے فروغ اور تدریس سے وابستہ بعض اداروں کو مالی وسائل، اساتذہ کی کمی اور بدلتے ہوئے تعلیمی حالات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بعض مقامات پر تدریسی سرگرمیاں محدود ہوئی ہیں اور کہیں اداروں کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس صورتِ حال کا درست اندازہ لگانے کے لیے ریاست اور ادارے کے لحاظ سے مستند اعداد و شمار، اساتذہ کی منظور شدہ اور خالی آسامیوں اور بند یا غیر فعال اداروں کی تفصیلات سامنے لانا ضروری ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ زبانوں اور تہذیبی ورثے کی حفاظت صرف جذباتی نعروں سے نہیں ہو سکتی؛ اس کے لیے تدریس، تحقیق، کتابوں کی اشاعت، ترجمے اور نئی نسل کی عملی دلچسپی کو فروغ دینا ہوگا۔
اردو اس ملک کی مشترکہ تہذیب، ادب، صحافت اور تحریکِ آزادی کی ایک اہم زبان ہے۔ عربی اور فارسی نے بھی ہمارے علمی، ادبی اور تاریخی سرمائے کو تشکیل دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان زبانوں کی حفاظت کا مطلب کسی دوسری زبان کی مخالفت نہیں، بلکہ اپنے علمی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے نئی نسل کے لیے علم کے مزید دروازے کھولنا ہے۔ ہندی، اردو، انگریزی اور دیگر بھارتیہ زبانوں کے درمیان رابطہ اور احترام کا ماحول ہمارے سماج کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ یہی وہ تہذیبی رویہ ہے جس میں اختلاف کے باوجود احترام اور تنوع کے باوجود اتحاد کو اہمیت دی جاتی ہے۔
سر سید کے مشن کی معنویت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب تعلیم کے ساتھ سماجی انصاف، باہمی احترام اور محروم طبقات کی ترقی کو بھی اہمیت دی جائے۔ مذہب، زبان، ذات یا معاشی حیثیت کی بنیاد پر کسی بچے کے تعلیمی مستقبل کو محدود نہیں ہونا چاہیے۔ معاشرے کی حقیقی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب کمزور سے کمزور فرد کو بھی آگے بڑھنے کا موقع ملے اور تعلیم لوگوں کے درمیان فاصلے بڑھانے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کے قریب لائے۔
آج ہمیں سر سید کے نام پر منعقد ہونے والی تقریبات کو عملی عہد میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہر تعلیمی ادارہ مستحق بچوں کی مدد کا منصوبہ بنائے، اہلِ خیر مستقل تعلیمی وظائف کے لیے آگے آئیں، سماجی تنظیمیں تعلیمی ضرورتوں کی تصدیق کے ساتھ مدد فراہم کریں اور نوجوانوں کو جدید علوم کے ساتھ اپنی زبان، تاریخ اور تہذیبی ورثے سے بھی جوڑا جائے۔ یہ کام کسی ایک تنظیم، جماعت یا فرد کے بس کا نہیں؛ اس کے لیے اجتماعی تعاون اور مسلسل محنت درکار ہے۔
سر سید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا اصل مطلب ان کے خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم ہر سال سر سید ڈے کس شان سے مناتے ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتنے بچوں کو تعلیم ملی، کتنے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملا اور ہم نے اپنے علمی و تہذیبی ورثے کی حفاظت کے لیے کیا عملی کام کیا۔ یہی سوال ہمارے لیے رہنمائی بھی ہے اور خود کے اندر جھانکنے کا پیمانہ بھی۔