لکھنو 10دسمبر: اترپردیش سمیت ملک کے مختلف صوبوں میں ووٹر لسٹ خصوصی جامع نظر ثانی مہم (ایس آئی آر) کا عمل اپنے شباب پر ہے اس دوران کئی طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں جس سے گاؤں سے دور لوگوں میں دہشت پھیل گئی ہے۔ اپنے آبائی وطن سے کوسوں دوررہنے والے مزدور اور نوکری پیشہ افراد کافی پریشان بتائے جارہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ دو جگہ ووٹر لسٹ میں نام ہونے پر مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جاسکتی ہے، اس لئے اب تک جو لوگ دوسری جگہ پر مقیم رہ کر وہیں ووٹ دیتے تھے وہ اب اپنے اصل گھر کا رُخ کرتے نظر آرہے ہیں تاکہ آبائی وطن کی ووٹر لسٹ میں اپنا نام برقرار رکھ سکیں۔ اس سلسلے میں اتر پردیش میں جاری ایس آئی آر کا عمل بی جے پی کے لئے چیلنج بن گیا ہے جہاں پارٹی کو اس بات کی فکرنہیں ہے کہ بڑی تعداد میں ایس آئی آر فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس بدلتی نوعیت سے اس کو تشویش ہے کہ شہروں میں رہنے کے باوجود لوگ اپنے ووٹ گاؤں میں رکھنا چاہتے ہیں۔ دراصل ایس آئی آر کے تحت الیکشن کمیشن صاف کردیا ہے کہ ایک شخص ایک ہی جگہ ووٹ ڈال سکتا ہے۔ یعنی شہر اور گاؤں دونوں جگہ نام ہونا اب ممکن نہیں ہے۔ جیسے ہی یہ ہدایات سامنے آئیں، شہری علاقوں میں ڈپلی کیٹ ووٹوں کی صفائی شروع ہوئی اور لوگ اپنے حقیقی، مستقل پتے کو لے کر فیصلہ لینے لگے۔ یہیں سے حالات پوری طرح تبدیل ہوگئے۔ زیادہ تر لوگوں نے اپنے پشتینی گاؤں کو ترجیح دی۔ اس کے پس پشت کئی اسباب ہیں جس میں گاؤں میں پشتینی زمین، جائداد اور خاندانی سماجی شناخت، پنچایتی انتخابات میں ہر خاندان کا براہ راست مفاد، گاؤں میں نام حذف ہونے سے مستقبل میں تنازعات کا اندیشہ، شہر میں کرائے؍ملازمت مستقل نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ وہیں بڑے شہروں میں رہنے والے لاکھوں لوگوں نے اپنے ایس آئی آرفارم ہی نہیں بھرے ہیں تاکہ ان کا ووٹ گاؤں میں برقرار رہے۔
اس طرح گاؤں کی ووٹر لسٹ مضبوط ہوئی لیکن شہروں میں ووٹروں کی تعداد اچانک کم ہونے لگی۔