بھارت کی سرزمین پر کچھ لوگ صرف عمارتیں نہیں بناتے، وہ دلوں کو جوڑتے ہیں، زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، اور نفرتوں کے مقابلے محبت کے درخت لگاتے ہیں۔انہی لوگوں میں سے ایک سر گنگا رام تھے جن کا آج یوم وفات ہے۔آج ہی کے دن 10جولائی 1927کو وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس مشن کا ترجمان تھا جو آج ہم سب کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ ــ’’انسان کو انسان سے جوڑنا، مذہب و فرقے کی دیواروں کو گرا کر محبت کی چھت تلے سب کو جگہ دیناــ‘‘ یہی ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ 1851 میں پیدا ہونے والے سر گنگا رام ایک ماہر انجینئر ضرور تھے، مگر ان کی اصل انجینئرنگ دلوں کے درمیان محبت کی پل باندھنے کی تھی۔
سر گنگا رام نے کبھی نہیں پوچھا کہ مریض ہندو ہے یا مسلمان، محتاج سکھ ہے یا عیسائی۔ ان کا ایمان صرف ایک تھا’’انسانیت‘‘۔ ان کا قائم کردہ گنگا رام اسپتال آج بھی اسی نظریے پر قائم ہے: ”مریض، مذہب نہیں دیکھتا، صرف مرہم دیکھتا ہے۔”
آج جب نفرت کے سوداگر تاریخ کو مسخ کر کے ہمیں بانٹنا چاہتے ہیں، ہمیں سر گنگا رام جیسے کرداروں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ وہ خاموشی سے بتا گئے کہ اصل طاقت انسانوں کو جوڑنے میں ہے۔ ان کی شخصیت نے اس بات کو زندہ مثال بنا دیا کہ بھارت صرف ایک ملک نہیں، ایک تہذیب ہے — جہاں سب کے لیے جگہ ہے، سب کے لیے عزت ہے۔
کیا ہم اور آپ آج ایسی جگہ پر نہیں جی رہے جہاں مذہب، ذات اور لباس کی بنیاد پر نفرت پھیلائی جا رہی ہے؟ سر گنگا رام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ خدمت، محبت، بھائی چارہ — یہی اصل طاقتیں ہیں۔ ان کا نام تاریخ کے اُس صفحے پر لکھا گیا ہے جسے کبھی مٹایا نہیں جا سکتا، کیونکہ انہوں نے پتھر نہیں دل تراشے ہیں۔
واضح رہے کہ پڑوسی ملک کے کئی شہر ان کے بسائے ہوئے ہیں۔ لاہور ان کا بسایا ہو ہے۔ نیز جب ہم بات کرتے ہیں سر گنگا رام کی تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اسی طرح کے کام بھارت میں بھی کئی اہم شخصیات نے کئے ہیں تاریخ میں جن کا تذکرہ برملا موجود ہے۔ جن میں حکیم عبدالحمید ، حکیم اجمل، ڈاکٹر مختار انصاری، عبدالمجید خواجہ، شیو نادر، عظیم پریم جی، رتن ٹاٹا وغیرہ سر فہرست ہیں۔ اس موقع پر ہم ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
10 جولائی صرف ان کی وفات کا دن نہیں، ایک مشن کی تجدید کا دن ہے۔ آئیے، ہم بھی سر گنگا رام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے: نفرت کے خلاف محبت کی بات کریں، مذہب کے نام پر دیواروں کی جگہ پل بنائیں، سیاست کی نفرتوں کے جواب میں انسانیت کی شمع جلائیںکیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم بھارت کو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں۔