بھوپال، 27 جولائی (نمائندہ خصوصی) راجدھانی بھوپال کے مشہورومعروف دینی وعلمی درسگاہ دارالعلوم علامہ عبدالحی حسنی کے زیراہتمام بھوپال کے اساطین وعلم وادب کے لئے ایک اعزازی تقریب بعنوان سپاس وتکریم بروز اتوار صبح دس بجے زیرصدارت استاذ الاساتذہ حضرت مولانا احمدسعید صاحب ندوی منعقد ہوا۔ جس میں بھوپال کے مشاہیر علمی ،ادبی ،سماجی اورصحافتی خدمات اور عظیم الشان کارنامے کوانجام دیا جو ہماری تاریخ کا زریں باب ہیں، بلکہ نامساعد حالات کے باوجود یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، جو بھوپال کو برصغیر میں جغرافیائی مرکزیت کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں اہم مقام کے حامل خطے کا درجہ عطا کرتا ہے۔ان علمائے کرام کی خدمات سے ریاست بھوپال کی علمی ،ادبی وتدریسی خدمات کے نئے باب روشن ہوئے ہیں۔بھوپال کے علمائے کرام کی خدمات کو نظرانداز کرنا صریح ناانصافی ہوگی۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ بھوپال کے مختلف شعبوں میں ضرورت کے لحاظ سے مفکران ملت کی جانب سے خدمات اور سرگرمیوں کا سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری وساری ہے۔پروگرام کاآغاز متعلم دارالعلوم محمد زبیر کی تلاوت قرآن سے ہوا، جبکہ دارالعلوم کے استاذ مولانامحمدتوفیق ندوی اوردارالعلوم کے طلبامحمدزید ودیگرنے حمدپاک سے محفل کورونق بخشا۔ (باقی صفحہ 7 پر)
اس کے بعد دارالعلوم کے مہتمم مولانامحمدمحبوب ندوی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ ایک زندہ اورتسلیم شدہ حقیقت ہے کہ تعلیم وتدریس سے بڑھ کر کوئی مشغلہ مقدس اورمعزز نہیں،ہرمذہب وملت اورہرسماج میں اساتذہ کوبڑاحترام حاصل رہاہے،کیوں کہ سماج میں جوکچھ بھلائیاں اورنیکیاں پائی جاتی ہیں اورخدمت خلق کاجوسروسامان موجود ہے وہ سب دراصل تعلیم ہی کاکرشمہ اوران ہی تعلیمی درس گاہوں کافیض ہے۔
واضح رہے کہ یہ وہ اہم شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیااور جنہیں لوگ نہ صرف جانتے ہیں بلکہ ان کی عزت واحترام میں سرتسلیم خم کردیتے ہیں۔ ان میں سماجی خدمتگار،فن درس وتدریس، مصنفین، فن قرأت کے علاوہ فن صحافت کے میدان میں اپنالوہامنوایا۔
اس اعزازی تقریب میں بھوپال کے مشاہیرعلمائے کرام ،مصنفین،صحافی اورسماج کے دیگر شعبوںمیںاہم کردار ادا کرنے والے مولانا احمدسعید صاحب ندوی کو مولانا محمدعلی مونگیریؒ ایوارڈ۔مولانا احسن علی خان ندوی کو شاہ ولی اللہ ؒایوارڈ۔ مولانا سیدشرافت علی ندوی کومولاناعلی میاں ندویؒ ایورڈ۔ مولانا ڈاکٹرحمیداللہ ندوی کو علامہ شبلی نعمانی ؒ ایوارڈ۔پروفیسرڈاکٹر حسان خاں کومولاناشاہ یعقوب مجددیؒ ایوارڈ۔ مولانا قاضی سید مشتاق علی صاحب ندوی کوعلامہ سید سلیمان ندویؒ ایوارڈ۔ مولانا سید بابرحسین ندوی کومولاناواضح رشید ندویؒ ایوارڈ۔ مولانا قاری رئیس احمدخاں ندوی کوقاری لطیف الرحمن یمنیؒ ایوارڈ۔مولانا نعمت اللہ ندوی (سرپرست اعلی دارالعلوم علامہ عبدالحی) کوعلامہ عبدالحی حسنی ؒایوارڈ۔ مولانامفتی رئیس احمد خاںقاسمی کومولانااشرف علی تھانویؒ ایوارڈ۔ مولاناقمرعالم ندوی کومولانامحمدرابع حسنی ندویؒ ایوارڈ۔ مولانامفتی رحیم اللہ خاں قاسمی کو مولانامحمدقاسم نانوتویؒ ایوارڈ۔ مولانامفتی محمدابوالکلام قاسمی کومولانارشید احمد گنگوہیؒ ایوارڈ۔ مولانامفتی رشید الدین قاسمی کوشیخ الہند،اسیرمالٹاؒ ایوارڈ۔ قاری ظہور صاحب کو قاضی وجدی الحسینیؒ ایوارڈ۔ حافظ منظور صاحب کوقاری محمد قاسم انصاریؒ ایوارڈ۔ حافظ اسحاق صاحب کومفتی عبدالرزاق خاں ؒ ایوارڈ۔جناب عارف عزیز (ایڈیٹرروز نامہ ندیم) کو محمدالحسنیؒ ایوارڈ۔ مولاناڈاکٹر اقبال مسعود ندوی کونواب صدیق حسن خاںؒ ایوارڈ۔ مولانامحفوظ خان فلاحی کومولانامحمدعمران خاں ندویؒ ایوارڈ سے سرفراز کیاگیا۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں علم سے وابستہ شہر کے معزز افرادڈاکٹرمہتاب عالم،ڈاکٹرانجم بارہ بنکوی،بدرواسطی سمیت دیگرشخصیات نے شرکت کی۔اس موقع پر تمام معززین نے دارالعلوم کے اس کارنامے کونہ صرف سراہابلکہ فرمایا کہ اس طرح کی تقریب کاسلسلہ جو دارالعلوم علامہ عبدالحی نے شروع کیا،بہت کم لوگ یہ ہمت کرپاتے ہیں، بہر دارالعلوم اس طرح کے پروگرام منعقد کرآئندہ بھی سماج کے لئے کام کرنے والوں کواعزاز بخشتارہے، یہ ہم سب کی تمنا ہے۔اس کے علاوہ صدر جلسہ نے بھی اپنے خطاب میں فرمایا کہ دینی وعلمی خدمات کااعتراف کیاجاناوقت کاتقاضاہے، کیوں کہ اس سے حوصلہ ملتاہے اورسماج میں کام کرنےکا ذوق بھی پیداہوتاہے۔بھوپال کی علمی و ادبی اور سماجی خدمات ناقابل فراموش کارنامہ ہے، دارالعلوم علامہ عبدالحی نے باکمال شخصیات کااعزاز کر نئی روایت قائم کی ہے۔ ڈاکٹرحمیداللہ ندوی نے طلبا سے مخاطب ہوکرفرمایا کہ آپ ہمیشہ یہ دعاکریں کہ اللہ رب العزت علم نافع عطافرمائے اور عمل صالح کی توفیق دے۔اسی سے آپ کی زندگی بامقصد اورپرنور بنے گی۔ وہیں آخرمیں دارالعلوم کے ناظم مولانامحمدمعاذ خان نعمانی ندوی نے تمام شرکاء کااظہار تشکرکیااورفرمایا کہ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ جواساطین دینی،ملی اور سماجی خدمت میں طویل وقت گزارتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی سماج کی ذمہ داری ہے، ہم یہ سلسلہ شروع کیاتاکہ موجودہ وقت میں تعلیم حاصل کررہے طلبا میں علم حاصل کرنے کے تئیں ذوق وشوق پیداہو۔
تقریب کی نظامت بھوپال کے مشہورادیب وعربی داں مولانامحمدیوسف صدیق ندوی نے بحسن وخوبی انجام دئے۔آخرمیں صدر جلسہ کی دعاپرپروگرام کااختتام ہوا۔