لکھنو 21جنوری: اترپردیشن کے سنبھل میں سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے ٹرانسفر اور ڈیموشن کے بعد سنبھل کے وکلاء کافی غصے میں ہیں۔ بدھ کو درجنوں وکلاء نے عدالت کے باہر جم کر نعرے بازی کی۔ اس دوران وکلاء نے ’سی جے ایم صاحب کو واپس لاؤ‘ کے نعرے بھی لگائے۔ ان لوگوں نے حکومت کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تبادلے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھایا ہے۔ واضح رہے کہ وبھانشو سدھیر وہی جج ہیں جنہوں نے سنبھل تشدد کے دوران ایک نوجوان کی موت کے معاملے میں اُس وقت کے اے ایس پی انوج چودھری سمیت کئی پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اس حکم کے کچھ دنوں بعد ہی حکومت نے ان کا ڈیموشن کرتے ہوئے تبادلہ کر دیا۔ ان کی جگہ آدتیہ سنگھ سنبھل کے نئے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے تبادلے پر وکلاء نے محاذ کھول دیا ہے۔
آج چندوسی میں عدالت کے باہر بڑی تعداد میں وکلاء نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے خلاف جم کر نعرے بازی اور احتجاج کیا۔ وکلاء نے ’سی جے ایم صاحب کو واپس لاؤ‘ اور ’یوگی جب جب ڈرتا ہے پولیس کو آگے کرتا ہے‘ کے نعرے لگائے۔ احتجاج کر رہے وکلاء کا الزام ہے کہ عالم نامی نوجوان کی موت کے معاملے میں پولیس کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی وجہ سے ہی سی جے ایم کا سلطان پور تبادلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سزا کے طور پر ان کا ڈیموشن بھی کر دیا گیا ہے۔ وکلاء نے اس کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پولیس کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔








