نئی دہلی، 4 دسمبر (یو این آئی) روس کے صدر ولادیمیر پوتن ہندوستان کے دو روزہ دورے پر جمعرات کی شام یہاں پہنچے۔ وزیر اعظم نریندر مودی روایت توڑتے ہوئے مسٹر پوتن کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے پر موجود تھے، جہاں انہوں نے مسٹر پوتن کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پہلے مصافحہ کیا اور پھر گلے ملے۔ وہ دونوں ایک کار میں ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے۔ ایئرپورٹ پر روسی صدر کے استقبال کے لیے لوک رقص کا اہتمام کیا گیا۔ توقع ہے کہ آج رات مسٹر مودی کی طرف سے دیے گئے عشائیے میں دونوں قائدین علاقائی، دو طرفہ اور عالمی اہمیت کے مختلف مسائل پر کھل کر بات چیت کریں گے۔ مسٹر پوتن کا جمعہ کے روز راشٹرپتی بھون میں رسمی استقبال کیا جائے گا۔ وہاں سے وہ سیدھے راج گھاٹ جائیں گے اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ روسی صدر کا دورہ ہند چار سال کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں اس دورے کو بہت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ مسٹر پوتن جمعہ کے روز 23ویں ہند-روس سالانہ چوٹی کانفرنس میں مسٹر نریندر مودی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ اس میٹنگ میں سخوئی 57 جنگی طیاروں کا سودا، S-400 دفاعی نظام اور تیل کی خریداری سمیت متعدد مسائل کا احاطہ کیا جائے گا۔ دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے ساتھ ساتھ عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ہندوستان اپنے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے روس کے تعاون کا خواہاں ہے۔ روس کا ایک بڑا وفد پہلے ہی ہندوستان پہنچ چکا ہے جس میں کئی روسی وزراء، اعلیٰ حکام اور اعلیٰ کاروباری رہنما شامل ہیں۔ حیدرآباد ہاؤس میں سربراہی اجلاس کے بعد مسٹر پوتن اور مسٹر مودی ایک مشترکہ پریس بیان دیں گے۔ بعد ازاں مسٹر پوتن کاروباری اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ شام کو صدر جمہوریہ مرمو مسٹر پوتن کے اعزاز میں عشائیہ دیں گی۔ عشائیہ کے بعد روسی صدر جمعے کی شب اپنے ملک کے لیے روانہ ہوں گے۔
امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر 50 فیصد درآمداتی ڈیوٹی لگانے کے اعلان کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال اور پیش رفت کے مد نظر مسٹر پوتن کے دورے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔









