پٹنہ7جنوری: بہار میں زیورات کی دکانوں میں چہرہ ڈھانپ کر آنے والے گاہکوں کے داخلے پر پابندی کے فیصلے کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت حجاب، برقع، نقاب، گھونگھٹ، ماسک اور ہیلمٹ پہن کر آنے والے افراد کو زیورات کی دکانوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ آل انڈیا جیولرز گولڈسمتھ فیڈریشن کی بہار اکائی نے دکانوں میں بڑھتی چوری اور لوٹ کی وارداتوں کے پیش نظر کیا ہے۔ فیڈریشن کے مطابق حالیہ مہینوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث زیورات کی دکانیں جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر آ گئی ہیں۔ اسی سکیورٹی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے دکانداروں نے یہ طے کیا کہ چہرہ ڈھانپ کر آنے والے کسی بھی فرد کو دکان میں داخل ہونے سے پہلے اپنا چہرہ ظاہر کرنا ہوگا۔ اس فیصلے کی اطلاع مقامی پولیس انتظامیہ کو بھی دے دی گئی ہے اور پٹنہ سمیت کئی شہروں میں دکانوں کے باہر اس حوالے سے نوٹس آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ اس فیصلے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ آر جے ڈی کے ریاستی ترجمان اعجاز احمد نے کہا کہ سکیورٹی کے نام پر حجاب اور نقاب کو نشانہ بنانا ہندوستانی آئین اور آئینی روایات کے سراسر خلاف ہے۔









