کراچی :06؍مارچ :(پریس ریلیز) محبان بھوپال فورم اور اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام معروف ادیب ، استاد، محقق ، شاعر ڈاکٹریونس حسنی کی دو کتابوں تو ازن اور نثر اختر کی تقریب اجراء سے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں معروف دانشور ، صحافی محمود شام نے کہا کہ ڈاکٹر یونس حسنی نہ صرف بہترین استاد کے علاوہ اعلیٰ درجے کے مصنف، نقاد، ادیب اور شاعر ہیں۔ مہمان خصوصی رضوان صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر یونس حسنی کے شاگرد ملک بھر میں اور بیرون ملک میں موجود ہیں جو کہ اپنے اپنے شعبے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ماہر تعلیم ڈاکٹر عظمی فرمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے لیے یہ باعث مسرت ہے کہ میں ان کی شاگرد ہوں اور مجھ سمیت 30 طلبہ وطالبات نے ان کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر نادیہ راحیل نے کہا کہ میں ان کی شاگرد تو ہوں مگر یہ میرے روحانی باپ کا درجہ رکھتے ہیں ، جب تاریخ لکھی جائے تو یونس حسنی کا نام نمایاں ہو گا۔
معروف لکھاری معراج جامی نے کہا کہ ہم جو کچھ ہیں وہ ڈاکٹر صاحب کی بدولت ہیں ، مہمانوں کا خیر مقدم محبان بھوپال کی بانی و چیئر پر سن شگفتہ فرحت نے کیا، انہوں اپنے خطاب میں ادمی ادبیات پاکستان اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ محبان بھوپال فورم محبتوں کا فورم ہے ہم محبتیں بانٹتے ہیں ، اس موقع پر مہمان اعزازی محمود احمد خان، و قار زیدی نے بھی مختصر خطاب کیا۔ تقریب کی نظامت معروف شاعرہ ڈاکٹر نزہت عباسی نے انجام دیئے۔
تقریب میں بڑی تعداد میں ادیب، شاعر اور تعلیمی شعبے سے وابستہ نامور شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ مہمانوں کا شکریہ ادکامی ادبیات پاکستان کے ڈائر یکٹر اقبال ڈھراج نے ادا کیا۔ تقریب کو معروف ادبی، سماجی شخصیت اولیس ادیب انصاری کا تعاون حاصل تھا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر یونس حسنی نہ صرف ایک استاد ہیں، اس کے علاوہ درجے کے مصنف، نقاد اور شاعر ہیں، ملک بھر اور بیرون ملک ان کے شاگر پھیلے ہوئے ہیں جو کہ اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ، ڈاکٹر یونس حسنی کی زیر نگرانی 30 طلبہ و طالبات ڈائریکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی جو کہ اعزاز کی بات ہے، ڈاکٹر یونس حسنی کی دو کتابوں کی تقریب اجراء سے محمود شام ، رضوان صدیقی ، ڈاکٹر عظمی فرمان ، ڈاکٹر نادیہ راحیل، محمود احمد خان، معراج جامی شگفتہ فرحت اور دیگر کا خطاب ہوا۔