نئی دہلی16دسمبر:لوک سبھا میں کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے منگل کو مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) سے متعلق مجوزہ ترمیمی بل کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل منریگا کی بنیادی روح کے خلاف ہے اور اس کے ذریعے غریبوں کو ملنے والے روزگار کے آئینی اور قانونی حق کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ پرینکا گاندھی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منریگا گزشتہ 20 برسوں سے دیہی ہندوستان میں روزگار فراہم کرنے اور دیہی معیشت کو سہارا دینے میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک انقلابی قانون ہے، جسے بناتے وقت تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل رضامندی حاصل تھی۔ اس قانون کے تحت ملک کے غریب ترین طبقے کو 100 دن کے روزگار کی قانونی ضمانت دی گئی، جو ان کے وقارِ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب عوامی نمائندے ہیں اور جب اپنے علاقوں میں جاتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ منریگا کا مزدور کون ہے۔ وہ سب سے غریب ہوتا ہے، اس کے چہرے پر سخت محنت کے نشانات ہوتے ہیں اور اس کے ہاتھ مسلسل مشقت کے باعث پتھروں کی طرح سخت ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ اسی قانون کی گواہی ہے جو غریبوں کو کام اور عزت دونوں فراہم کرتا ہے۔ پرینکا گاندھی نے واضح کیا کہ منریگا کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک مانگ پر مبنی اسکیم ہے۔ جہاں روزگار کی مانگ ہوتی ہے، وہاں حکومت پر لازم ہے کہ 100 دن کا روزگار فراہم کرے۔
اسی بنیاد پر مرکز سے ریاستوں کو مالی وسائل بھی فراہم کیے جاتے ہیں، تاکہ زمینی حالات کے مطابق ضرورت پوری ہو سکے۔ یہ بھی پڑھیں : منریگا کا نام بدلنے پر پرینکا گاندھی کی تنقید، کہا- ’حکومت کے وسائل اور پیسے ضائع ہوں گے‘

انہوں نے اعتراض کیا کہ مجوزہ ترمیمی بل کے تحت مرکز کو یہ اختیار دیا جا رہا ہے کہ وہ پہلے ہی طے کرے کہ کس ریاست یا علاقے کو کتنی رقم دی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ 73ویں آئینی ترمیم کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس ترمیم کے تحت گرام سبھاؤں کو مقامی سطح پر ضرورت طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس بل کے ذریعے گرام سبھاؤں اور پنچایتی راج کے نظام کو کمزور کیا جا رہا ہے۔