یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ آج اگر اُردو زبان زندہ ہے تو اس کا سہرا صرف مدارسِ دینیہ کے سر ہے۔ یہی مدارس ہیں جنہوںنے اُردو زبان و ادب، تہذیب و تمدن کو بچائے رکھا ہے۔ ان ہی مدارس میں اُردو پڑھائی بھی جاتی ہے، لکھی بھی جاتی ہے اور بولی بھی جاتی ہے۔ یہاں کی فضائوں میں اُردو سانس لیتی ہے، یہاں کے اساتذہ اپنی محنت اور طلبہ اپنی لگن سے اُردو کو نسل در نسل منتقل کرتے ہیں اور انہیں کے بدولت آج اُردو اور اُردو کا رسم الخط بچا ہوا ہے۔
مدارسِ دینیہ دراصل اُردو، عربی اور فارسی کی تعلیم کی ریڑھ کی ہڈی (Backbone)ہیں۔ اگر یہ ادارے نہ ہوتے تو نئی نسل نہ قرآن کو اس کی اصل زبان میں سمجھ پاتی، نہ فارسی کے سرمایہ سے آشنا ہو پاتی اور نہ ہی اُردو اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ رہتی۔ المیہ یہ ہے کہ جدید جامعات اور سرکاری تعلیمی اداروں نے ان زبانوں کو یا تو محض رسمی مضمون بنا دیا ہے یا نصاب سے ہی باہر کر دیا ہے۔ ایسے میں مدارس ایک مضبوط قلعے کی مانند کھڑے ہیں جو نہ صرف ہماری علمی روایت کو سنبھالے ہوئے ہیں بلکہ تہذیبی ورثے کو بھی نئی نسل تک منتقل کر رہے ہیں۔ اگر آج بھی اُردو میں علمی لٹریچر تیار ہو رہا ہے، یا عربی و فارسی کی روشنی قائم ہے تو اس کی اصل قوت انہی مدارس سے آتی ہے۔
دوسری طرف، جو حضرات خود کو اُردو کے بڑے علمبردار اور شاعر کہتے ہیں، ان کے حال پر نظر ڈالیے۔ مشاعرے میں تشریف لاتے ہیں، کلام سناتے ہیں لیکن اکثر اپنا ہی کلام کاغذ یا موبائل سے دیکھ کر پڑھتے ہیں ،وہ بھی اُردو رسم الخط میں نہیں بلکہ ہندی زبان یا رومن میں ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اُردو کا خادم تو کہتے ہیں مگر رسم الخط تک سے نابلد ہیں۔ انہیں نہ اردو خطاطی سے غرض ہے نہ کتابت سے کوئی مطلب۔ مقصد بس سامعین کی واہ واہ اور جیب کی گرمی ہے۔ آج شاعر اپنے لفافے کو موٹے کرنے اور جیب کی فکر میں رہتے ہیں۔
ایک تلخ حقیت یہ ہے کہ آج کے مشاعرے اُردو زبان کے تحفظ کے تئیں مؤثر کردار ادا نہیں کر پار ہے ہیں ۔ شاعروں کے یہ اجتماعات زبان کی ترقی کے بجائے محض تفریح کا سامان ہوا کرتے ہیں۔ اکثر شاعر اسٹیج پر آ کر چندمسخرے جملے اچھالتے ہیں، پھر داد سمیٹ کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ یہ حضرات کبھی اُردو کے مسئلہ مسائل پر اور اُردو کے ساتھ ہو رہی ناانصافی پر گفتگو نہیں کرتے،نیز حکومت کے تعصبانہ رویہ کے خلاف کبھی آواز بلند بھی نہیں کرتے کہ بھارت کی بیٹی کے ساتھ کھلے عام ناانصافی کیوں ہورہی ہے؟ یہ حضرات کبھی زبان کی ترویج کے کسی حقیقی منصوبے میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ خود کو اُردو کا نمائندہ کہتے تو ہیں لیکن حقیقت میں اُردو کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے تماشائیوں کے دل بہلانے اور اپنی شہرت بڑھانے میں لگے رہتے ہیں۔ یہ بد ترین صورت حال اُردو جیسی پیاری زبان کے ساتھ ایک کھلا مذاق ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں اُردو کے تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر ہیں۔حکومت اُردو کے فروغ کو رفتار دینے کے بجائے ہر وہ کام کر رہی ہے اور ہر وہ حربے استعمال کر رہی ہے جس سے اُردو کے فروغ کی رفتار کم ہو جائے۔ اولاً تو اُردو ادارے ہیں ہی نہیں اور جو چند ایک ادارے ہیں، وہاں بھی کئی اساتذہ ایسے ہیں جنہیں خود اُردو لکھنے پڑھنے میں دشواری ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ایم اے اردو کرنے والے طلبہ کی بھی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو باضابطہ طور پر اُردو لکھ اور پڑھ نہیں سکتی۔
ہمیں ماننا پڑے گا کہ آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ مدارس اور دیگر اداروں میں نہ صرف اُردو، عربی اور فارسی پڑھائی جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اردو ٹائپنگ کا ہنر بھی سکھایا جائے۔ کیونکہ کتابوں کی کمپوزنگ، رسائل و جرائد، اخبارات اور میگزین—سب کی بقا اب ٹائپنگ کے ذریعہ ہی ممکن ہے اور انہیں سب چیزوں سے اُردو پروان چڑھتی ہے ۔ اردو کی دنیا میں وہی قلم زندہ رہے گا جو کی بورڈ پر دوڑنا جانتا ہو۔ہماری تاریخ اور وراثت کے زندہ رکھنے کا واحد حل یہ ہے کہ اُردو زبان و ادب نیز عربی و فارسی میں جتنا بھی لیٹریچر سب کو منظر عام پر لایا جائے اور زیادہ سے زیادہ کتابوں کی اشاعت انہیں زبانوں میں ہو۔
مدارس کے طلبہ کو اس حقیقت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ آج کے عہد میں اردو کی خدمت صرف کتابی مطالعے تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ٹیکنالوجی کو اپنانا اور رسم الخط کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہی اردو کے وجود کی ضمانت ہے۔
یاد رکھیے، زبانیں شاعروں کی واہ واہی سے نہیں بچتیں۔ زبانیں تعلیمی اداروں، مدارس، اور اُن محققین و اساتذہ سے زندہ رہتی ہیں جو آنے والی نسلوں کو اس کے رسم الخط، اس کے ذائقے اور اس کی اصل روح سے روشناس کراتے ہیں۔درس و تدریس کے ذریعہ طلباء و اساتذہ کے ذریعہ اُردو ایک نسل سے دوسرے نسل میں منتقل ہوتی ہے۔
مدارس ہی اُردو کے اور گنگا جمنی تہذیب کے محافظ ہیں۔انہیں سے ہماری شناخت باقی ہے۔ منووادی اور پونجی وادی عناصر چاہتے ہیں کہ مدارس و مکاتب کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ہم سب کو انہیں بچانے اور آباد کرنے کی فکر بھی کرنا ہوگی۔
آج اگر ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو اُردو کا نوحہ کل کاغذ پر نہیں بلکہ ہندی اور رومن رسم الخط میں لکھا جائے گا۔ اور یہ ہم سب کے لئے شرمندگی کی سب سے بڑی علامت ہوگی اور بھارت کا ایک نایاب کوہِ نور جو سب کے لئے باعث فخر ہے ۔ ہماری شخصیت میں چار چاند لگاتا ہے ہم اسے کھو دیںگے۔