مجاہد آزادی، ممتاز صحافی، انقلابی شخصیت، سماجی مصلح اور ایک عظیم انسان ،دنیا جنہیں ’آرین پیشوا‘ کے نام سے بھی جانتی ہے، جن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ہند نے ڈاک ٹکٹ جاری کیا وہ عظیم شخصیت کوئی اور نہیں بلکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہونہار سپوت راجہ مہندر پرتاپ سنگھ ہیں۔آج ان کے یوم پیدائش پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
راجہ مہندر پرتاپ سنگھ1 دسمبر 1886 کو پیدا ہوئے۔ وہ ‘آرین پیشوا’ کے نام سے مشہور تھے اور ہندوستان کی عارضی حکومت کے صدر تھے۔ یہ حکومت پہلی جنگ عظیم کے دوران قائم ہوئی تھی اور ہندوستان کے باہر سے چلائی گئی تھی۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران 1940 میں جاپان میں ‘ایگزیکٹیو بورڈ آف انڈیا’ قائم کیا۔
واضح رہے کہ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی۔ اے۔ تک تعلیم حاصل کی لیکن بی۔ اے کے امتحان میں کچھ مسائل کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے۔ وہ وطن عزیز بھارت کو آزادی دلانے کے پختہ ارادے کے ساتھ بیرون ملک گئے تھے۔ اس سے پہلے دہرادون سے ’’نربل سیوک‘‘ اخبار بھی نکالتے تھے۔جرمنی کے حق میں لکھے گئے آرٹیکل کی وجہ سے ان پر 500 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا جو انہوں نے ادا تو کر دیا لیکن ان کے اندر ملک کو آزاد کرانے کی خواہش مزید پختہ ہو گئی۔
ملک کی آزادی کی جدوجہد میں انہیں کئی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جب وہ ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کر رہے تھے اس وقت انہیں بیرون ملک جانے کے لیے پاسپورٹ نہیں ملا۔ پھر میسرز تھامس کک اینڈ سنز کے مالک نے راجہ مہندر پرتاپ کو بغیر پاسپورٹ کے اپنی کمپنی کے پی اینڈ او سٹیمر کے ذریعے انگلینڈ پہنچایا۔ اس کے بعد راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کی ملاقات جرمنی کے حکمراں قیصر سے ہوئی۔انہیں آزادی کے حصول میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔وہاں سے وہ افغانستان بھی گئے۔افغانستان کے بادشاہ سے ملاقات کر وہاں سے یکم دسمبر 1915 کو کابل سے بھارت کے لیے عارضی حکومت کا اعلان کیا جس میں خود صدر بنے اور مولانا برکت اللہ بھوپالی کو وزیر اعظم بنایا۔
جب افغانستان نے انگریزوں کے خلاف جنگ شروع کی تو راجہ مہندر پرتاپ سنگھ روس گئے اور لینن سے ملے لیکن لینن نے کوئی مدد فراہم نہیں کی۔ 1920 سے 1946 تک بیرون ملک سفر کرتے رہے۔ ورلڈ فرینڈ شپ ایسوسی ایشن قائم کی گئی۔ پھر اس کے بعد وہ 1946 میں وطن عزیز بھارت واپس آئے۔29 اپریل 1979 کو راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
آج ان کے یوم پیدائش پر ہم انہیں سلام کرتے ہیں،ان کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔یقینا وہ اور ان کے جتنے بھی ساتھ تھے جن میں سر فہرست مولانا برکت اللہ بھوپالی، مولانا عبیداللہ سندھی وغیرہ ہیں ،سب کے سب عظیم مجاہد تھے ،جن کی وجہ سے ہمیں آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوا ہے،ہم راجہ مہندر پرتاپ سنگھ کے ساتھ ساتھ ان تمام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔راجہ مہندر پرتاپ سنگھ آج ہی کے دن یکم دسمبر 1886 کو پیدا ہوئے جنہیں اے ایم یو کے پہلے گریجویٹ طالب علم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں، تمام علیگ برادری کو انہیں یاد کرنا چاہئے۔ یاد رکھئے! سر سید کے ان محسنین کی خدمات کو یاد کرکے آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا عملی اقدام نہیں کیا گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔









