اورنگ آباد25ستمبر: مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ اور مغربی علاقوں کو شدید بارش کے سبب تباہی کا سامنا ہے۔ کئی اضلاع میں رہائشی علاقے زیرِ آب آ گئے، گھروں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور لوگ مختلف علاقوں میں پھنس گئے ہیں۔ گزشتہ چار دنوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 150 سے زائد دیہات بارش کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’مراٹھواڑہ میں بھاری بارش کے سبب جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کی خبریں انتہائی افسوسناک ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اس مشکل گھڑی میں میری دعائیں اور نیک خواہشات تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ سے اپیل ہے کہ فوری طور پر راحتی کاموں میں تیزی لائی جائے اور فصلوں کی تباہی کا مکمل اندازہ لگا کر کسانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔‘‘ راہل گاندھی نے کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں سے بھی اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور ضرورت مندوں کی مدد میں شامل ہوں۔ حالیہ بارش کی شدت کے پیش نظر بیڈ ضلع کے 11 تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں، جبکہ سولاپور میں بھی شدید سیلاب نے حالات خراب کر دیے ہیں۔ مراٹھواڑہ کے دیگر اضلاع جیسے جالنا، ہنگولی اور اورنگ آباد میں بھی کئی گاؤں زیرِ آب آ گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 24 ستمبر کے درمیان ریاست میں بارش کے پیٹرن میں غیر معمولی فرق دیکھا گیا۔ پونے، رتناگری، رائے گڑھ اور تھانے میں معمول سے زیادہ بارش ہوئی، جبکہ ستارا اور سانگلی میں معمول سے کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ مراٹھواڑہ کے ضلعوں، خاص طور پر دھاراشیو، بیڈ، جالنا اور ہنگولی میں معمول سے کئی گنا زیادہ بارش ہوئی ہے، جس کی وجہ سے زمین کی سیرابی اور سیلاب کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
کانکنی مافیا نےکسان کو کچلا
پیلی بھیت25 ستمبر(یو این آئی)اترپردیش کے ضلع پیلی بھیت میں بدھ کی رات غیر قانونی کھدائی (مائننگ) کا احتجاج کرنے پر مافیا کے غنڈوں نے ایک کسان کو ٹریکٹر سے روند کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔