پٹنہ 19جون: بہار کے سارن ضلع واقع مڑھورا شہر کا لوکوموٹیو انجن اب صرف ہندوستان کی ریلوے پٹریوں پر نہیں، بلکہ بیرون ملک میں موجود پٹریوں پر بھی دوڑے گا۔ یہ پہلی بار ہے جب بہار میں تیار کوئی انجن بیرون ملک بھیجا جائے گا۔ یہ فیکٹری ’میک اِن بہار، میک فار دی ورلڈ‘ کے منتر کو فروغ دے رہی ہے، اور بہت جلد یہاں تیار انجن مغربی افریقی ملک گنی کو بھیجا جائے گا۔ مڑھورا کی یہ فیکٹری ’ویب ٹیک اِنک‘ اور انڈین ریلوے کا جوائنٹ ونچر ہے، جس میں ویب ٹیک اِنک کی 76 فیصد اور ریلوے کی 24 فیصد شراکت داری ہے۔ اس یونٹ کی شروعات 2018 میں ہوئی تھی اور اب تک یہاں سے 729 طاقتور ڈیزل انجن بنائے جا چکے ہیں۔ ان میں 4500 ایچ پی کے 545 اور 6000 ایچ پی کے 184 انجن شامل ہیں۔ حال ہی میں گنی کے 3 وزراء نے اس یونٹ کا دورہ کیا تھا، جس کے بعد 140 انجنوں کی تقریباً 3000 کروڑ روپے کا معاہدہ طے پایا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس لوکوموٹیو کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔ بہرحال، 226 ایکڑ میں پھیلی اس یونٹ کا نام ’کومو‘ رکھا گیا ہے۔ یعنی اس ریلوے انجن کو بھی ’کومو‘ نام سے جانا جائے گا۔ برآمدات بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ فیکٹری اپنی پروڈکشن صلاحیت بھی بڑھا رہی ہے۔ اس ونچر کے گلوبل لوکوموٹیو مینوفیکچرنگ ہَب بننے کے بعد اس کی صلاحیت کئی گنا بڑھنے والی ہے۔
تقریباً 50-40 فیصد پرزے ہندوستان کی الگ الگ ریاستوں، مثلاً مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈو، دہلی، جمشید پور سے آتے ہیں، جبکہ کچھ خاص انجن امریکہ سے منگائے جاتے ہیں۔









