نئی دہلی 11اکتوبر:لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پیر، 12 اکتوبر 2026 کو سپریم کورٹ تک مارچ نکالنے اور چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کو میمورنڈم پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور عام شہریوں سے اس مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اس مارچ میں لوگ سیاسی جماعت، جنس، ذات، برادری اور ریاست کی شناخت سے اوپر اٹھ کر ہندوستانی شہری کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔ راہل گاندھی نے اتوار، 11 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ملک کے نوجوان جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جو لوگ آئین پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں اس مارچ میں شامل ہونا چاہیے۔ راہل گاندھی نے دہلی میں جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کے نوجوان پُرامن احتجاج کے لیے سڑکوں پر اترے تھے، لیکن ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کے دلوں میں نفرت یا غصے کے بجائے محبت تھی، اس کے باوجود انہیں پولیس اہلکاروں اور بی جے پی کے کارکنوں نے نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا، ’’ایسا ہندوستان ہم نہیں چاہتے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی کے مطابق، پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ مجوزہ مارچ کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی نہیں کرے گا، بلکہ اس میں تمام ہندوستانی شہریوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں، سول سوسائٹی اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں ان کا ساتھ دیں۔









